اہل البیت(ع) پورٹل کی قرآنی ویب سائٹ

اہل ابیت(ع) پورٹل کی ویب سائٹیں؛ قرآن کریم، نہج البلاغہ، صحیفہ سجادیہ اور ادعیہ و زیارات

عنوان مقاله

قصص القرآن: حضرت ايوب (عليہ السلام)
آيۃ اللہ العظمي مکارم شيرازي


تعداد بازدید 382 دسته بندی: کے نبی اور قرآن
متن مقاله

حضرت ايوب (ع) کى حيران کن زندگى اور ان کا صبر
گفتگو حضرت ايوب (عليہ السلام) کے بارے ميں ہيں کہ جو صبر و استقامت کا نمونہ تھے۔ ان کا ذکر اس لئے ہے تاکہ اس وقت کے اور پھر آج کے اور آئندہ کے مسلمانوں کے لئے مشکلوں اور پريشانيوں ميں استقامت، قيام اور جد و جہد کا درس ہو اور انہيں پامردى کى دعوت دى جائے اور اس صبر و استقامت کا حسن انجام واضح کيا جائے۔
حضرت ايوب (عليہ السلام) وہ تيسرے نبى ہيں کہ ہمارے عظيم نبى (ص) پر فرض کيا گيا ہے کہ ان کے واقعہ کو مسلمان کے لئے بيان کريں تاکہ مسلمان بڑى بڑى مشکلات سے نہ گھبرائيں اور اس کى رحمت سے کبھى بھى مايوس نہ ہوں(1)۔
قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے: ''ہمارے بندے ايوب کو ياد کرو کہ جب اس نے اپنے پروردگار کو پکارا اور عرض کي: شيطان نے مجھے بہت تکليف اور اذيت ميں مبتلا کر رکھا ہے''(2)۔
اس گفتگو ميں قرآن:
اولاً: بارگاہ الہى ميں حضرت ايوب (عليہ السلام) کا بلند مقام ''عبدنا''(ہمارا بندہ) سے معلوم ہوتا ہے۔
ثانياً: اشارتاً حضرت ايوب (عليہ السلام) کى شديد اور طاقت فرسا تکليف اور فراواں مصيبت کا ذکر ہے، اس ماجرے کى تفصيل قرآن ميں نہيں آئي، ليکن حديث و تفسير کى مشہور کتب ميں اس کى تفصيل نقل ہوئي ہے ۔
حضرت ايوب (عليہ السلام) کيوں مشکلات ميں گرفتار ہوئے؟
کسى نے امام جعفر صادق (عليہ السلام) سے پوچھا:وہ مصيبت جو حضرت ايوب (عليہ السلام) کو دامن گير ہوئي، کس بنا پر تھى؟ (شايد سائل کا خيال تھا کہ ان سے کوئي غلط کام سر زد ہو گيا تھا جس کى وجہ سے اللہ نے انہيں مصيبت ميں مبتلا کر ديا)۔
امام (عليہ السلام) نے اس سوال کا تفصيلى جواب ديا جس کا خلاصہ يوں ہے: ايوب (عليہ السلام) کفران نعمت کى وجہ سے ان عظيم مصائب ميں گرفتار نہيں ہوئے، بلکہ اس کے بر عکس شکر نعمت کى وجہ سے ہوئے، کيونکہ شيطان نے بارگاہ خدا ميں عرض کى کہ: يہ جو ايوب تيرا شکر گزار ہے وہ فراواں نعمتوں کى وجہ سے ہے کہ جو تو نے اسے دى ہيں، اگر يہ نعمتيں اس سے چھين لى جائيں تو يقينا وہ کبھى شکر گزار بندہ نہيں ہو گا۔
اس بنا پر کہ سارى دنيا پر ايوب (عليہ السلام) کا خلوص واضح ہو جائے اور انہيں عالمين کے لئے نمونہ قرار ديا جائے تاکہ لوگ نعمت اور مصيبت ہر دو عالم ميں شاکر و صابر رہيں، اللہ نے شيطان کو اجازت دى کہ وہ حضرت ايوب (عليہ السلام) کى دنيا پر قبضہ کر لے۔ شيطان نے اللہ سے خواہش کى ايوب کا فراواں مال و دولت، ان کى کھيتياں، بھيڑ بکرياں اور آل اولاد سب ختم ہو جائے، آفتيں اور مصيبتيں آئيں اور ديکھتے ہى ديکھتے سب کچھ تباہ و برباد ہو گيا، ليکن نہ صرف يہ کہ ايوب (عليہ السلام) کے شکر ميں کمى نہيں آئي بلکہ اس ميں اور اضافہ ہو گيا۔ خدا سے شيطان نے خواہش کى کہ اب اسے ايوب (عليہ السلام) کے بدن پر بھى مسلط کردے اور وہ اس طرح بيمار ہو جائيں کہ ان کا بدن شدت درد کى لپيٹ ميں آجائے اور وہ بيمارى کے بستر کا اسير ہوجائے، ليکن اس چيز نے بھى ان کے مقام شکر ميں کمى نہ کى ۔
پھر ايک ايسا واقعہ پيش آيا کہ جس نے ايوب (عليہ السلام) کا دل توڑ ديا اور ان کى روح کو سخت مجروح کيا، وہ يہ کہ بنى اسرائيل کے راہبوں کى ايک جماعت انہيں ديکھنے آئي اور انہوں نے کہا کہ: تو نے کون سا گناہ کيا ہے جس کى وجہ سے اس درد ناک عذاب ميں مبتلا ہے؟ ايوب (عليہ السلام) نے جواباً کہا: ميرے پرور دگار کى قسم کہ مجھ سے کوئي غلط کام نہيں ہوا، ميں ہميشہ اللہ کى اطاعت ميں کوشاں رہا ہوں، اور ميں نے جب بھى کوئي لقمہ غذا کا کھايا ہے کوئي نہ کوئي يتيم و بے نوا ميرے دسترخوان پر ہوتا تھا۔
يہ ٹھيک ہے کہ ايوب (عليہ السلام) دوستوں کى اس شماتت پر ہر دوسرى مصيبت سے زيادہ دکھى ہوئے پھر بھى صبر کا دامن نہ چھوڑا، اور شکر کے صفاف و شريں پانى کو کفران سے آلودہ نہ کيا۔ صرف بارگاہ خدا کى طرف رخ کيا اور مذکورہ جملہ عرض کيا، اور چونکہ آپ اللہ کے امتحانوں سے خوب عہدہ برآ ہوئے، لہذا اللہ نے اپنے اس شاکر و صابر بندے پر پھر اپنى رحمت کے دروازے کھول ديئے اور کھوئي ہوئي نعمتيں يکے بعد ديگرے پہلے سے بھى زيادہ انہيں عطا کيں تاکہ سب لوگ صبر و شکر کا نيک انجام ديکھ ليں ۔
بہرحال کہتے ہيں کہ ان کى بيمارى اور ناراحتى سات سال تک رہى اور ايک روايت کے مطابق سترہ برس تک رہى، يہاں تک کہ آپ کے نزديک ترين ساتھى بھى ساتھ چھوڑ گئے، صرف ايک بيوى نے وفا ميں استقامت کى اور يہ چيز خود ايک شاہد ہے بعض بيويوں کى وفادارى پر ۔
سب سے بڑا غم دشمنوں کى شماتت
ليکن حضرت ايوب (عليہ السلام) کو جس چيز سے زيادہ دکھ ہوتا تھا وہ دشمنوں کى شماتت تھي، اسى لئے ايک حديث ميں ہے کہ جب حضرت ايوب (عليہ السلام) کو کھوئي ہوئي صحت و سلامتى پھر مل گئي اور رحمت الہى کے دروازے ان کے لئے کھل گئے تو لوگوں نے آپ سے سوال کيا کہ سب سے شديد درد آپ کو کون سا تھا؟ تو آپ نے کہا: دشمنوں کى شماتت ۔
آخرکار حضرت ايوب (عليہ السلام) آزمائشے الہى کى اس گرم بھٹى سے صحيح و سالم باہر نکل آئے اور پھر رحمت خدا کا آغاز ہوا۔ انہيں حکم ديا گيا کہ: ''اپنا پاوں زمين پر مارو، تو پانى کا چشمہ ابل پڑے گا کہ جو تيرے نہانے کے لئے ٹھنڈا بھى ہوگا اور تيرے پينے کے لئے عمدہ بھي "(3)۔
وہى خدا جس نے خشک اور تپتے بيابان ميں شير خوار اسماعيل کى ايڑيوں کے نيچے چشمہ پيدا کر ديا، وہى خدا کہ ہر حرکت و سکون اور ہر نعمت و عنايت جس کى طرف سے ہے،اس نے يہ فرمان ايوب (عليہ السلام) کے لئے بھى صادر فرمايا، پانى کا چشمہ ابلنے لگا، ٹھنڈا اور ميٹھا چشمہ جو اندرونى و بيرونى سب بيماريوں کے لئے شفا بخش تھا۔
بعض کا خيال ہے کہ اس چشمے ميں ايک طرح کا معدنى پانى تھا جو پينے کے لئے بھى اچھا تھا اور بيماريوں کو دور کرنے کے لئے بھى موثر تھا، بہر حال کچھ بھى تھا ايک صابر و شاکر نبى کے لئے اللہ کا لطف و کرم تھا۔
پہلى اور اہم ترين خدائي نعمت صحت تھى، جب وہ ايوب (عليہ السلام) کى طرف لوٹ آئي تو دوسرى نعمتوں کے لوٹنے کى نوبت آئي۔ اس سلسلے ميں قرآن کہتا ہے: ''ہم نے اسے اس کے گھر والے بخش ديئے، اور ان کے ساتھ ان کے مانند بھى قرار ديئے، تاکہ ہمارى طرف سے رحمت ہو اور صاحبان فکر و نظر کے لئے نصيحت بھى''(4)۔
ان کا گھرانہ ان کے پاس واپس آيا، اس سلسلے ميں مختلف تفسيريں موجود ہيں۔ مشہور يہ ہے کہ وہ مر چکے تھے اور اللہ نے انہيں پھر زندگى دي۔ ليکن بعض نے لکھا ہے کہ حضرت ايوب (عليہ السلام) کى طويل بيمارى کے باعث وہ ادھر ادھر بکھر چکے تھے جب حضرت ايوب (عليہ السلام) صحت ياب ہوگئے تو وہ پھر آپ کے گردا گرد جمع ہوگئے ۔
کچھ لوگوں نے يہ احتمال بھى ذکر کيا ہے کہ وہ سب يا ان ميں سے بعض افراد بھى طرح طرح کى بيماريوں ميں مبتلا ہوگئے تھے۔ رحمت الہى ان کے شامل حال ہوئي، وہ سب رو بصحت ہوئے اور پروانوں کى طرح وجود پدر کى شمع کے گرد جمع ہوئے۔
''اور ان کے ساتھ ان کے مانند بھى قرار ديئے''، يہ اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے ان کے گھر کو پہلے سے بھى زيادہ آباد اور پر رونق کيا اور ايوب (عليہ السلام) کو مزيد بيٹے عطا کئے ۔
قرآن ميں اگر چہ حضرت ايوب (عليہ السلام) کے مال و دولت کے بارے ميں بات نہيں کى گئي ليکن موجود قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے پھر آپ کو مال ودولت بھى فراواں تر عطا فرمايا۔
حضرت ايوب (عليہ السلام) کى قسم
اب صرف ايک مشکل ايوب (عليہ السلام) کے لئے باقى تھى، وہ قسم جو انہوں نے اپنى بيوى کے بارے ميں کھائي تھى، اور وہ يہ تھى کہ انہوں نے ان سے کوئي خلاف مرضى کام ديکھا تھا لہذا انہوں نے اس بيمارى کى حالت ميں قسم کھائي کہ جس وقت ان ميں طاقت پيدا ہو گئي تو وہ اسے ايک سو يا اس سے کچھ کم کوڑے ماريں گے، ليکن صحت يابى کے بعد وہ چاہتے تھے کہ اس کى خدمات اور وفاداريوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اسے معاف کرديں، ليکن قسم اور خدا کے نام کا مسئلہ درميان ميں تھا۔
خدا نے يہ مشکل بھى ان کے لئے حل کر دى، جيسا کہ قرآن کہتا ہے کہ ان سے فرمايا گيا: "گندم کى شاخوں (يا اسى قسم کى کسى چيز) کى ايک مٹھى بھر لو اور اس کے ساتھ مارو اور اپنى قسم نہ توڑو''(5)۔
حضرت ايوب (عليہ السلام) کى بيوى کا نام ايک روايت کے مطابق ''ليا'' بنت يعقوب تھا۔ اس بارے ميں کہ اس سے کون سى غلطى ہوئي تھى مفسرين کے درميان بحث ہے۔
مشہورترين مفسر، ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ شيطان يا (کوئي شيطان صفت) ايک طبيب کى صورت ميں ايوب (عليہ السلام) کى بيوى کے پاس آيا، اس نے کہا: ميں تيرے شوہر کا علاج کرتا ہوں صرف اس شرط پر کہ جس وقت وہ ٹھيک ہو جائے تو وہ مجھ سے يہ کہہ دے کہ صرف ميں نے اسے شفا ياب کيا ہے، اس کے علاوہ ميں اور کوئي اجرت نہيں چاہتا۔ ان کى بيوى نے جو ان کى مسلسل بيمارى کى وجہ سے سخت پريشان تھى اس شرط کو قبول کر ليا اور حضرت ايوب (عليہ السلام) کے سامنے يہ تجويز پيش کي۔ حضرت ايوب (عليہ السلام) جو شيطان کے جال کو سمجھتے تھے بہت ناراض ہوئے اور قسم کھائي کہ وہ اپنى بيوى کو سزا ديں گے۔
بعض نے کہا ہے کہ جناب ايوب (عليہ السلام) نے اسے کسى کام کے لئے بھيجا تھا تو اس نے دير کردي، حضرت ايوب (عليہ السلام) چونکہ بيمارى سے تکليف ميں تھے بہت پريشان ہوئے اور اس طرح کى قسم کھائي۔ بہر حال اگر وہ ايک طرف سے اس قسم کى سزا کى مستحق تھى تو دوسرى طرف اس طويل بيمارى ميں اس کى وفاداري، خدمت اور تيماردارى اس قسم کے عفو و در گذر کا استحقاق بھى رکھتى تھى ۔
يہ ٹھيک ہے کہ گندم کى شاخوں کے ايک دستہ يا خوشہ خرما کى لکڑيوں سے مارنا ان کى قسم کا واقعى مصداق نہيں تھا، ليکن خدا کے نام کے احترام کى حفاظت اور قانون شکنى پھيلنے سے روکنے کے لئے انہوں نے يہ کام کيا، اور يہ بات صرف اس صورت ميں ہے کہ کوئي مستحق عفو و در گذر ہو اور انسان چاہے کہ عفو و درگذر کے باجود قانون کے ظاہر کو بھى محفوظ رکھے۔ ورنہ ايسے مواقع پر جہاں استحقاق عفو و بخشش نہ ہو وہاں ہر گز اس کام کى اجازت نہيں ہے۔ قرآن ميں اس واقعہ کے آخرى جملے ميں جو اس داستان کى ابتداء و انتہا کا نچوڑ ہے، فرمايا گيا ہے: ''ہم نے اسے صابر و شکيبا پايا، ايوب کتنا اچھا بندہ تھا جو ہمارى طرف بہت زيادہ باز گشت کرنے والا تھا''(6)۔
يہ بات کہے بغير ہى ظاہر ہے کہ ان کا خدا کى بارگاہ ميں دعا کرنا اور شيطان کو وسوسوں اور درد، تکليف اور بيمارى کے دور ہونے کا تقاضا کرنا، مقام صبر و شکيبائي کے منافى نہيں اور وہ بھى سات سال اور ايک روايت کے مطابق اٹھارہ سال تک بيمارى اور فقر و نادارى کے ساتھ نبھانے اور شاکر رہنے کے بعد ۔
قابل توجہ بات يہ ہے کہ اس جملے ميں حضرت ايوب (عليہ السلام) کى تين اہم صفات کے ساتھ توصيف کى گئي ہے کہ جو جس کسى ميں بھى پائي جائيں وہ ايک انسان کامل ہوتا ہے:
1۔ مقام عبوديت 2۔ صبر و استقامت 3۔ پے در پے خدا کى طرف باز گشت ۔
حضرت ايوب (عليہ السلام) قرآن اور توريت ميں
اس عظيم پيغمبر کا پاک چہرہ، جو صبر و شکيبائي کا مظہر ہے، يہاں تک کہ صبر ايوب (عليہ السلام) سب کے لئے ضرب المثل ہو گيا ہے، قرآن مجيد ميں ہم نے ديکھ ليا ہے کہ خدا نے کس طرح سے اس داستان کى ابتدا اور انتہا ميں ان کى تعريف کى ہے۔
ليکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس عظيم پيغمبر کى سر گزشت بھى جاہلوں يا دانا دشمنوں کى دستبرد سے محفوظ نہ رہى اور ايسے ايسے خرافات ان پر باندھے گئے جن سے ان کى مقدس و پاک شخصيت منزہ ہے۔ ان ميں سے ايک يہ ہے کہ بيمارى کے وقت حضرت ايوب (عليہ السلام) کے بدن ميں کيڑے پڑگئے تھے اور ان ميں بدبو پيدا ہو گئي تھى کہ بستى والوں نے انہيں آبادى سے باہر نکال ديا ۔
بلا شک و شبہ اس قسم کى روايت جعلى اور من گھڑت ہے، چاہے وہ حديث کى کتابوں کے اندر ہى کيوں نہ ذکر ہوئي ہوں، کيونکہ پيغمبروں کى رسالت کا تقاضا يہ ہے کہ لوگ ہر وقت اور ہر زمانے ميں ميل و رغبت کے ساتھ ان سے مل سکيں اور جو بات لوگوں کے تنفر و بے زارى اور افراد کے ان سے دور رہنے کا موجب بنے، چاہے وہ تنفر بيمارياں ہوں يا عيوب جسمانى يا اخلاقى خشونت و سختى، ان ميں نہيں ہوں گي، کيونکہ يہ چيزيں ان کے فلسفہ رسالت سے تضاد رکھتى ہيں۔
ليکن توريت ميں ايک مفصل قصہ ''ايوب'' کے بارے ميں نظر آتا ہے جو ''مزامير داود'' سے پہلے موجود ہے۔ يہ کتاب 42/ فصل پر مشتمل ہے اور ہر فصل ميں تفصيلى بحث موجود ہے، بعض فصول ميں تو انتہائي تکليف دہ مطالب نظر آتے ہيں، ان ميں سے تيسرى فصل ميں ہے کہ:
"ايوب (عليہ السلام) نے شکايت کے لئے زبان کھولى اور بہت زيادہ شکوہ کيا"، جب کہ قرآن نے ان کى صبر وشکيبائي کى تعريف کى ہے۔


منابع و مراجع

1) بر خلاف موجودہ توريت کے کہ جو انہيں انبياء کے زمرے ميں شمار نہيں کرتى، بلکہ انہيں ايک نيک اور صالح انسان سمجھتى ہے کہ جن کى بہت سى اولاد تھى اور جو صاحب مال شخص تھے۔
2) سورہ ص، آيت 41
3) سورہ ص، آيت 42
4) سورہ ص، آيت 43
5) سورہ ص، آيت 44
6) سورہ ص، آيت 44
------------------------------
ماخذ: قصص قرآن، مصنف: آيت اللہ العظمى مکارم شيرازى، مترجم: اقبال حيدر حيدري


شائع کئے گئے مقالات ضروری نہیں ہے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے نظریے کی عکاسی کرتے ہوں

نام  


ایمیل  


متن نظر