بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ ﴿5﴾ وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ ﴿6﴾ مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ ﴿7﴾ أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْ ذِكْرِي ۖ بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ ﴿8﴾ أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ ﴿9﴾ أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ ﴿10﴾ جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ ﴿11﴾ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ ﴿12﴾ وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ ۚ أُولَٰئِكَ الْأَحْزَابُ ﴿13﴾ إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ﴿14﴾ وَمَا يَنْظُرُ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ ﴿15﴾ وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ ﴿16﴾ اصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿17﴾ كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ ﴿3﴾ وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ ﴿4﴾ ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ ﴿1﴾ بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ ﴿2﴾ إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ ﴿18﴾ وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ ﴿19﴾ وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ﴿20﴾ وَهَلْ أَتَاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ﴿21﴾ إِذْ دَخَلُوا عَلَىٰ دَاوُودَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَا إِلَىٰ سَوَاءِ الصِّرَاطِ ﴿22﴾ إِنَّ هَٰذَا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِيَ نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ ﴿23﴾ قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩ ﴿24﴾ فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ﴿25﴾ يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ ﴿26﴾ وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ ﴿27﴾ أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ ﴿28﴾ كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴿29﴾ وَوَهَبْنَا لِدَاوُودَ سُلَيْمَانَ ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿30﴾ إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ ﴿31﴾ فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ﴿32﴾ رُدُّوهَا عَلَيَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ ﴿33﴾ وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ ﴿34﴾ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ﴿35﴾ فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ ﴿36﴾ وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ ﴿37﴾ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ﴿38﴾ هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿39﴾ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ﴿40﴾ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ ﴿41﴾ ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ ﴿42﴾ وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿43﴾ وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿44﴾ وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ ﴿45﴾ إِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ ﴿46﴾ وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ ﴿47﴾ وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِنَ الْأَخْيَارِ ﴿48﴾ هَٰذَا ذِكْرٌ ۚ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ ﴿49﴾ جَنَّاتِ عَدْنٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ ﴿50﴾ مُتَّكِئِينَ فِيهَا يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ وَشَرَابٍ ﴿51﴾ وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ أَتْرَابٌ ﴿52﴾ هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ ﴿53﴾ إِنَّ هَٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ ﴿54﴾ هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ ﴿55﴾ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ ﴿56﴾ هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ ﴿57﴾ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ ﴿58﴾ هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ ﴿59﴾ قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا ۖ فَبِئْسَ الْقَرَارُ ﴿60﴾ قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ ﴿61﴾ وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ ﴿62﴾ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ ﴿63﴾ إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ ﴿64﴾ قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرٌ ۖ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ﴿65﴾ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ ﴿66﴾ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ ﴿67﴾ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ ﴿68﴾ مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ ﴿69﴾ إِنْ يُوحَىٰ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿70﴾ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ ﴿71﴾ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ ﴿72﴾ فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ ﴿73﴾ إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ ﴿74﴾ قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ ﴿75﴾ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ ۖ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ ﴿76﴾ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ﴿77﴾ وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِي إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ ﴿78﴾ قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿79﴾ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ ﴿80﴾ إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ﴿81﴾ قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿82﴾ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ﴿83﴾ قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ ﴿84﴾ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿85﴾ قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ﴿86﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ ﴿87﴾ وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ ﴿88﴾

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

کیا اس نے سارے خداؤں کو جوڑ کر ایک خدا بنا دیا ہے یہ تو انتہائی تعجب خیز بات ہے ﴿5﴾ اور ان میں سے ایک گروہ یہ کہہ کر چل دیا چلو اپنے خداؤں پر قائم رہو کہ اس میں ان کی کوئی غرض پائی جاتی ہے ﴿6﴾ ہم نے تو اگلے دور کی امتوّں میں یہ باتیں نہیں سنی ہیں اور یہ کوئی خود ساختہ بات معلوم ہوتی ہے ﴿7﴾ کیا ہم سب کے درمیان تنہا ا ن ہی پر کتاب نازل ہو گئی ہے حقیقت یہ ہے کہ انہیں ہماری کتاب میں شک ہے بلکہ اصل یہ ہے کہ ابھی انہوں نے عذاب کا مزہ ہی نہیں چکھا ہے ﴿8﴾ کیا ان کے پاس آپ کے صاحبِ عزت و عطا پروردگار کی رحمت کا کوئی خزانہ ہے ﴿9﴾ یا ان کے پاس زمین و آسمان اور اس کے مابین کا اختیار ہے تو یہ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں ﴿10﴾ تمام گروہوں میں سے ایک گروہ یہاں بھی شکست کھانے والا ہے ﴿11﴾ اس سے پہلے قوم نوح علیہ السّلام قوم عاد علیہ السّلام اور میخوں والا فرعون سب گزر چکے ہیں ﴿12﴾ اور ثمود،قوم لوط علیہ السّلام ،جنگل والے لوگ یہ سب گروہ گزر چکے ہیں ﴿13﴾ ان میں سے ہر ایک نے رسول کی تکذیب کی تو ان پر ہمارا عذاب ثابت ہو گیا ﴿14﴾ یہ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایک ایسی چنگھاڑ بلند ہو جائے جس سے ادنیٰ مہلت بھی نہ مل سکے ﴿15﴾ اور یہ کہتے ہیں کہ پروردگار ہمارا قسمت کا لکھا ہوا روزِ حساب سے پہلے ہی ہمیں دیدے ﴿16﴾ آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد علیہ السّلام کو یاد کریں جو صاحب طاقت بھی تھے اور بیحد رجوع کرنے والے بھی تھے ﴿17﴾ ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلوں کو تباہ کر دیا ہے پھر انہوں نے فریاد کی لیکن کوئی چھٹکارا ممکن نہیں تھا ﴿3﴾ اور انہیں تعجب ہے کہ ان ہی میں سے کوئی ڈرانے والا کیسے آگیا اور کافروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے ﴿4﴾ ص ۤ نصیحت والے قرآن کی قسم ﴿1﴾ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفاّر غرور اور اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں ﴿2﴾ ہم نے ان کے لئے پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا کہ ان کے ساتھ صبح و شام تسبیح پروردگار کریں ﴿18﴾ اور پرندوں کو ان کے گرد جمع کر دیا تھا سب ان کے فرمانبردار تھے ﴿19﴾ اور ہم نے ان کے ملک کو مضبوط بنا دیا تھا اور انہیں حکمت اور صحیح فیصلہ کی قوت عطا کر دی تھی ﴿20﴾ اور کیا آپ کے پاس ان جھگڑا کرنے والوں کی خبر آئی ہے جو محراب کی دیوار پھاند کر آ گئے تھے ﴿21﴾ کہ جب وہ داؤد علیہ السّلام کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے خوف محسوس کیا اور ان لوگوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم دو فریق ہیں جس میں ایک نے دوسرے پر ظلم کیا ہے آپ حق کے ساتھ فیصلہ کر دیں اور نا انصافی نہ کریں اور ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت کر دیں ﴿22﴾ یہ ہمارا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دے اور اس بات میں سختی سے کام لیتا ہے ﴿23﴾ داؤد علیہ السّلام نے کہا کہ اس نے تمہاری دنبی کا سوال کر کے تم پر ظلم کیا ہے اور بہت سے شرکاء ایسے ہی ہیں کہ ان میں سے ایک دوسرے پر ظلم کرتا ہے علاوہ ان لوگوں کے جو صاحبانِ ایمان و عمل صالح ہیں اور وہ بہت کم ہیں۔۔۔۔ اور داؤد علیہ السّلام نے یہ خیال کیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے لہٰذا انہوں نے اپنے رب سے استغفار کیا اور سجدہ میں گر پڑے اور ہماری طرف سراپا توجہ بن گئے ﴿24﴾ تو ہم نے اس بات کو معاف کر دیا اور ہمارے نزدیک ان کے لئے تقرب اور بہترین بازگشت ہے ﴿25﴾ اے داؤد علیہ السّلام ہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایا ہے لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راہِ خدا سے منحرف کر دیں بیشک جو لوگ راہِ خدا سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے کہ انہوں نے روزِ حساب کو یکسر نظرانداز کر دیا ہے ﴿26﴾ اور ہم نے آسمان اور زمین اور اس کے درمیان کی مخلوقات کو بیکار نہیں پیدا کیا ہے یہ تو صرف کافروں کا خیال ہے اور کافروں کے لئے جہنّم میں ویل کی منزل ہے ﴿27﴾ کیا ہم ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والوں کو زمین میں فساد برپا کرنے والوں جیسا قرار دیدیں یا صاحبانِ تقویٰ کو فاسق و فاجر افراد جیسا قرار دیدیں ﴿28﴾ یہ ایک مبارک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور صاحبانِ عقل نصیحت حاصل کریں ﴿29﴾ اور ہم نے داؤد علیہ السّلام کو سلیمان علیہ السّلام جیسا فرزند عطا کیا جو بہترین بندہ اور ہماری طرف رجوع کرنے والا تھا ﴿30﴾ جب ان کے سامنے شام کے وقت بہترین اصیل گھوڑے پیش کئے گئے ﴿31﴾ تو انہوں نے کہا کہ میں ذکر خدا کی بنا پر خیر کو دوست رکھتا ہوں یہاں تک کہ وہ گھوڑے دوڑتے دوڑتے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ﴿32﴾ تو انہوں نے کہا کہ اب انہیں واپس پلٹاؤ اس کے بعد ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو ملنا شروع کر دیا ﴿33﴾ اور ہم نے سلیمان علیہ السّلام کا امتحان لیا جب ان کی کرسی پر ایک بے جان جسم کو ڈال دیا تو پھر انہوں نے خدا کی طرف توجہ کی ﴿34﴾ اور کہا کہ پروردگار مجھے معاف فرما اور ایک ایسا ملک عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لئے سزاوار نہ ہو کہ تو بہترین عطا کرنے والا ہے ﴿35﴾ تو ہم نے ہواؤں کو مسخر کر دیا کہ ان ہی کے حکم سے جہاں جانا چاہتے تھے نرم رفتار سے چلتی تھیں ﴿36﴾ اور شیاطین میں سے تمام معماروں اور غوطہ خوروں کو تابع بنا دیا ﴿37﴾ اور ان شیاطین کو بھی جو سرکشی کی بنا پر زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ﴿38﴾ یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دے دو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہو گا اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے ﴿39﴾ یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دے دو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہو گا اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے ﴿40﴾ اور ہمارے بندے ایوب علیہ السّلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ شیطان نے مجھے بڑی تکلیف اور اذیت پہنچائی ہے ﴿41﴾ تو ہم نے کہا کہ زمین پر پیروں کو رگڑو دیکھو یہ نہانے اور پینے کے لئے بہترین ٹھنڈا پانی ہے ﴿42﴾ اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال عطا کر دیئے اور اتنے ہی اور بھی دے دئے یہ ہماری رحمت اور صاحبانِ عقل کے لئے عبرت و نصیحت ہے ﴿43﴾ اور ایوب علیہ السّلام تم اپنے ہاتھوں میں سینکوں کا مٹھا لے کر اس سے مار دو اور قسم کی خلاف ورزی نہ کرو - ہم نے ایوب علیہ السّلام کو صابر پایا ہے - وہ بہترین بندہ اور ہماری طرف رجوع کرنے والا ہے ﴿44﴾ اور پیغمبر علیہ السّلام ہمارے بندے ابراہیم علیہ السّلام ،اسحاق علیہ السّلام اور یعقوب علیہ السّلام کا ذکر کیجئے جو صاحبانِ قوت اور صاحبانِ بصیرت تھے ﴿45﴾ ہم نے ان کو آخرت کی یاد کی صفت سے ممتاز قرار دیا تھا ﴿46﴾ اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور نیک بندوں میں سے تھے ﴿47﴾ اور اسماعیل علیہ السّلام اور الیسع علیہ السّلام اور ذوالکفل علیہ السّلام کو بھی یاد کیجئے اور یہ سب نیک بندے تھے ﴿48﴾ یہ ایک نصیحت ہے اور صاحبانِ تقویٰ کے لئے بہترین بازگشت ہے ﴿49﴾ ہمیشگی کی جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہوں گے ﴿50﴾ وہاں تکیہ لگائے چین سے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور شراب طلب کریں گے ﴿51﴾ اور ان کے پہلو میں نیچی نظر والی ہمسن بیبیاں ہوں گی ﴿52﴾ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا روز قیامت کے لئے تم سے وعدہ کیا گیا ہے ﴿53﴾ یہ ہمارا رزق ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے ﴿54﴾ یہ ایک طرف ہے اور سرکشوں کے لئے بدترین بازگشت ہے ﴿55﴾ جہنّم ہے جس میں یہ وارد ہوں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے ﴿56﴾ یہ ہے عذاب اس کا مزہ چکھیں گرم پانی ہے اور پیپ ﴿57﴾ اور اسی قسم کی دوسری چیزیں بھی ہیں ﴿58﴾ یہ تمہاری فوج ہے اسے بھی تمہارے ہمراہ جہنّم میں ٹھونس دیا جائے گا خدا ان کا بھلا نہ کرے اور یہ سب جہنّم میں جلنے والے ہیں ﴿59﴾ پھر مرید اپنے پیروں سے کہیں گے تمہارا بھلا نہ ہو تم نے اس عذاب کو ہمارے لئے مہیاّ کیا ہے لہٰذا یہ بدترین ٹھکانا ہے ﴿60﴾ پھر مزید کہیں گے کہ خدایا جس نے ہم کو آگے بڑھایا ہے اس کے عذاب کو جہنّم میں دوگنا کر دے ﴿61﴾ پھر خود ہی کہیں گے کہ ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہیں شریر لوگوں میں شمار کرتے تھے ﴿62﴾ ہم نے ناحق ان کا مذاق اڑایا تھا یا اب ہماری نگاہیں ان کی طرف سے پلٹ گئی ہیں ﴿63﴾ یہ اہل جہنمّ کا باہمی جھگڑا ایک امر برحق ہے ﴿64﴾ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور خدائے واحد و قہار کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے ﴿65﴾ وہی آسمان و زمین اور ان کی درمیانی مخلوقات کا پروردگار اور صاحبِ عزت اور بہت زیادہ بخشنے والا ہے ﴿66﴾ کہہ دیجئے کہ یہ قرآن بہت بڑی خبر ہے ﴿67﴾ تم اس سے اعراض کئے ہوئے ہو ﴿68﴾ مجھے کیا علم ہوتا کہ عالم بالا میں کیا بحث ہو رہی تھی ﴿69﴾ میری طرف تو صرف یہ وحی آتی ہے کہ میں ایک کھلا ہوا عذاب الٰہی سے ڈرانے والا انسان ہوں ﴿70﴾ انہیں یاد دلائیے جب آپ کے پروردگار نے ملائکہ سے کہا کہ میں گیلی مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں ﴿71﴾ جب اسے درست کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب سجدہ میں گر پڑنا ﴿72﴾ تو تمام ملائکہ نے سجدہ کر لیا ﴿73﴾ علاوہ ابلیس کے کہ وہ اکڑ گیا اور کافروں میں ہو گیا ﴿74﴾ تو خدا نے کہا اے ابلیس تیرے لئے کیا شے مانع ہوئی کہ تو اسے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے دست قدرت سے بنایا ہے تو نے غرور اختیار کیا یا تو واقعتاً بلند لوگوں میں سے ہے ﴿75﴾ اس نے کہا کہ میں ان سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انہیں خاک سے پیدا کیا ہے ﴿76﴾ ارشاد ہوا کہ یہاں سے نکل جا تو مردود ہے ﴿77﴾ اور یقیناً تیرے اوپر قیامت کے دن تک میری لعنت ہے ﴿78﴾ اس نے کہا پروردگار مجھے روز قیامت تک کی مہلت بھی دیدے ﴿79﴾ ارشاد ہوا کہ تجھے مہلت دیدی گئی ہے ﴿80﴾ مگر ایک معّین وقت کے دن تک ﴿81﴾ اس نے کہا تو پھر تیری عزّت کی قسم میں سب کو گمراہ کروں گا ﴿82﴾ علاوہ تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص بنا لیا ہے ﴿83﴾ ارشاد ہوا تو پھر حق یہ ہے اور میں تو حق ہی کہتا ہوں ﴿84﴾ کہ میں جہنمّ کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا ﴿85﴾ اور پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا کوئی اجر نہیں چاہتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والا غلط بیان ہوں ﴿86﴾ یہ قرآن تو عالمین کے لئے ایک نصیحت ہے ﴿87﴾ اور کچھ دنوں کے بعد تم سب کو اس کی حقیقت معلوم ہو جائے گی ﴿88﴾