بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَابَّةٍ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿4﴾ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ رِزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿5﴾ تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿6﴾ وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿7﴾ يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿8﴾ وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ ﴿9﴾ مِنْ وَرَائِهِمْ جَهَنَّمُ ۖ وَلَا يُغْنِي عَنْهُمْ مَا كَسَبُوا شَيْئًا وَلَا مَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿10﴾ هَٰذَا هُدًى ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ ﴿11﴾ اللَّهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿12﴾ وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿13﴾ قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّهِ لِيَجْزِيَ قَوْمًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿14﴾ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ۖ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ﴿15﴾ وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ﴿16﴾ وَآتَيْنَاهُمْ بَيِّنَاتٍ مِنَ الْأَمْرِ ۖ فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ﴿17﴾ إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِلْمُؤْمِنِينَ ﴿3﴾ حم ﴿1﴾ تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿2﴾ ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿18﴾ إِنَّهُمْ لَنْ يُغْنُوا عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۖ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ ﴿19﴾ هَٰذَا بَصَائِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿20﴾ أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ﴿21﴾ وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿22﴾ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿23﴾ وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُمْ بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ﴿24﴾ وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ مَا كَانَ حُجَّتَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا ائْتُوا بِآبَائِنَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ﴿25﴾ قُلِ اللَّهُ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿26﴾ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَخْسَرُ الْمُبْطِلُونَ ﴿27﴾ وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿28﴾ هَٰذَا كِتَابُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿29﴾ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِي رَحْمَتِهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿30﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا أَفَلَمْ تَكُنْ آيَاتِي تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنْتُمْ قَوْمًا مُجْرِمِينَ ﴿31﴾ وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيهَا قُلْتُمْ مَا نَدْرِي مَا السَّاعَةُ إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ ﴿32﴾ وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ﴿33﴾ وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنْسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَاصِرِينَ ﴿34﴾ ذَٰلِكُمْ بِأَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ﴿35﴾ فَلِلَّهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿36﴾ وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿37﴾

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

اور خود تمہاری خلقت میں بھی اور جن جانوروں کو وہ پھیلاتا رہتا ہے ان میں بھی صاحبانِ یقین کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں ﴿4﴾ اور رات دن کی رفت و آمد میں اور جو رزق خدا نے آسمان سے نازل کیا ہے جس کے ذریعہ سے مردہ زمینوں کو زندہ بنایا ہے اور ہواؤں کے چلنے میں اس قوم کے لئے نشانیاں پائی جاتی ہیں جو عقل رکھنے والی ہے ﴿5﴾ یہ اللہ کی آیتیں ہیں جن کی حق کے ساتھ تلاوت کی جا رہی ہے تو اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد یہ کس بات پر ایمان لانے والے ہیں ﴿6﴾ بیشک ہر جھوٹے گنہگار کے حال پر افسوس ہے ﴿7﴾ جو تلاوت کی جانے والی آیات کو سنتا ہے اور پھر اکڑ جاتا ہے جیسے سنا ہی نہیں ہے تو اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے ﴿8﴾ اور اسے جب بھی ہماری کسی نشانی کا علم ہوتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے بیشک یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کن عذاب ہے ﴿9﴾ ان کے پیچھے جہنّم ہے اور انہوں نے جو کچھ کمایا ہے اور جن لوگوں کو خدا کو چھوڑ کر سرپرست بنایا ہے کوئی کام آنے والا نہیں ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ﴿10﴾ یہ قرآن ایک ہدایت ہے اور جن لوگوں نے آیاتِ خدا کا انکار کیا ہے ان کے لئے سخت قسم کا دردناک عذاب ہو گا ﴿11﴾ اللہ ہی نے تمہارے لئے دریا کو مسخر کیا ہے کہ اس کے حکم سے کشتیاں چل سکیں اور تم اس کے فضل و کرم کو تلاش کر سکو اور شاید اس کا شکریہ بھی ادا کر سکو ﴿12﴾ اور اسی نے تمہارے لئے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو مسخر کر دیا ہے بیشک اس میں غور و فکر کرنے والی قوم کے لئے نشانیاں پائی جاتی ہیں ﴿13﴾ آپ صاحبانِ ایمان سے کہہ دیں کہ وہ خدائی دنوں کی توقع نہ رکھنے والوں سے درگزر کریں تاکہ خدا قوم کو ان کے اعمال کا مکمل بدلہ دے سکے ﴿14﴾ جو نیک کام کرے گا وہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا اور جو برائی کرے گا وہ اپنے ہی نقصان کے لئے کرے گا اس کے بعد تم سب پروردگار کی طرف پلٹائے جاؤ گے ﴿15﴾ اور یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکومت اور نبوت عطا کی ہے اور انہیں پاکیزہ رزق دیا ہے اور انہیں تمام عالمین پر فضیلت دی ہے ﴿16﴾ اور انہیں اپنے امر کی کھلی ہوئی نشانیاں عطا کی ہیں پھر ان لوگوں نے علم آنے کے بعد آپس کی ضد میں اختلاف کیا تو یقیناً تمہارا پروردگار روزِ قیامت ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں ﴿17﴾ بیشک آسمانوں اور زمینوں میں صاحبانِ ایمان کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں ﴿3﴾ حمۤ ﴿1﴾ اس کتاب کی تنزیل اس خدا کی طرف سے ہے جو صاحبِ عزّت بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی ہے ﴿2﴾ پھر ہم نے آپ کو اپنے حکم کے واضح راستہ پر لگا دیا لہٰذا آپ اسی کا اتباع کریں اور خبردار جاہلوں کی خواہشات کا اتباع نہ کریں ﴿18﴾ یہ لوگ خدا کے مقابلہ میں ذرہ برابر کام آنے والے نہیں ہیں اور ظالمین آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تو اللہ صاحبانِ تقویٰ کا سرپرست ہے ﴿19﴾ یہ لوگوں کے لئے روشنی کا مجموعہ اور یقین کرنے والی قوم کے لئے ہدایت اور رحمت ہے ﴿20﴾ کیا برائی اختیار کر لینے والوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ ہم انہیں ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے برابر قرار دے دیں گے کہ سب کی موت و حیات ایک جیسی ہو یہ ان لوگوں نے نہایت بدترین فیصلہ کیا ہے ﴿21﴾ اور اللہ نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس لئے بھی کہ ہر نفس کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جا سکے اور یہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا ﴿22﴾ کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش ہی کو خدا بنا لیا ہے اور خدا نے اسی حالت کو دیکھ کر اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور خدا کے بعد کون ہدایت کر سکتا ہے کیا تم اتنا بھی غور نہیں کرتے ہو ﴿23﴾ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف زندگانی دنیا ہے اسی میں مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی ہم کو ہلاک کر دیتا ہے اور انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں ہے کہ یہ صرف ان کے خیالات ہیں اور بس ﴿24﴾ اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی ہوئی آیات کی تلاوت ہوتی ہے تو ان کی دلیل صرف یہ ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے لے آؤ ﴿25﴾ آپ کہہ دیجئے کہ خدا ہی تم کو بھی زندہ رکھے ہے پھر ایک دن موت دے گا اور آخر میں سب کو روز قیامت جمع کرے گا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو بھی نہیں سمجھتے ہیں ﴿26﴾ اور اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کا ملک ہے اور جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن اہلِ باطل کو واقعتاً خسارہ ہو گا ﴿27﴾ اور آپ ہر قوم کو گھٹنے کے بل بیٹھا ہوا دیکھیں گے اور سب کو ان کے نامۂ اعمال کی طرف بلایا جائے گا کہ آج تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿28﴾ یہ ہماری کتاب (نامۂ اعمال) ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے اور ہم اس میں تمہارے اعمال کو برابر لکھوا رہے تھے ﴿29﴾ اب جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے انہیں پروردگار اپنی رحمت میں داخل کر لے گا کہ یہی سب سے نمایاں کامیابی ہے ﴿30﴾ اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا تو کیا تمہارے سامنے ہماری آیات کی تلاوت نہیں ہو رہی تھی لیکن تم نے اکڑ سے کام لیا اور بیشک تم ایک مجرم قوم تھے ﴿31﴾ اور جب یہ کہا گیا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے تو تم نے کہہ دیا کہ ہم تو قیامت نہیں جانتے ہیں ہم اسے ایک خیالی بات سمجھتے ہیں اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں ﴿32﴾ اور ان کے لئے ان کے اعمال کی برائیاں ثابت ہو گئیں اور انہیں اسی عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے ﴿33﴾ اور ان سے کہا گیا کہ ہم تمہیں آج اسی طرح نظر انداز کر دیں گے جس طرح تم نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور تم سب کا انجام جہنّم ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے ﴿34﴾ یہ سب اس لئے ہے کہ تم نے آیات الٰہی کا مذاق بنایا تھا اور تمہیں زندگانی دنیا نے دھوکے میں رکھا تھا تو آج یہ لوگ عذاب سے باہر نہیں نکالے جائیں گے اور انہیں معافی مانگنے کا موقع بھی نہیں دیا جائے گا ﴿35﴾ ساری حمد اسی خدا کے لئے ہے جو آسمان و زمین اور تمام عالمین کا پروردگار اور مالک ہے ﴿36﴾ اسی کے لئے آسمان و زمین میں بزرگی اور کبریائی ہے اور وہی صاحبِ عزّت اور حکمت والا ہے ﴿37﴾