بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا ﴿4﴾ إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌ ﴿5﴾ وَإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِعٌ ﴿6﴾ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ ﴿7﴾ إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُخْتَلِفٍ ﴿8﴾ يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ ﴿9﴾ قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ ﴿10﴾ الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ سَاهُونَ ﴿11﴾ يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ ﴿12﴾ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ ﴿13﴾ ذُوقُوا فِتْنَتَكُمْ هَٰذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ﴿14﴾ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿15﴾ آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ ﴿16﴾ كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ﴿17﴾ فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا ﴿3﴾ وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا ﴿1﴾ فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا ﴿2﴾ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ﴿18﴾ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ﴿19﴾ وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِلْمُوقِنِينَ ﴿20﴾ وَفِي أَنْفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ﴿21﴾ وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ﴿22﴾ فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنْطِقُونَ ﴿23﴾ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ ﴿24﴾ إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُنْكَرُونَ ﴿25﴾ فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ ﴿26﴾ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ﴿27﴾ فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ ﴿28﴾ فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ ﴿29﴾ قَالُوا كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ ﴿30﴾ قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ ﴿31﴾ قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمٍ مُجْرِمِينَ ﴿32﴾ لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ طِينٍ ﴿33﴾ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِينَ ﴿34﴾ فَأَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿35﴾ فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿36﴾ وَتَرَكْنَا فِيهَا آيَةً لِلَّذِينَ يَخَافُونَ الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ﴿37﴾ وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿38﴾ فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِ وَقَالَ سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ ﴿39﴾ فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ ﴿40﴾ وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ ﴿41﴾ مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ ﴿42﴾ وَفِي ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّىٰ حِينٍ ﴿43﴾ فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ ﴿44﴾ فَمَا اسْتَطَاعُوا مِنْ قِيَامٍ وَمَا كَانُوا مُنْتَصِرِينَ ﴿45﴾ وَقَوْمَ نُوحٍ مِنْ قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ ﴿46﴾ وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ﴿47﴾ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ ﴿48﴾ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ﴿49﴾ فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿50﴾ وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۖ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿51﴾ كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ ﴿52﴾ أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ ﴿53﴾ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ ﴿54﴾ وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ﴿55﴾ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿56﴾ مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ ﴿57﴾ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ ﴿58﴾ فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبًا مِثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَابِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ ﴿59﴾ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ ﴿60﴾

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

پھر ایک امر کی تقسیم کرنے والی ہیں ﴿4﴾ تم سے جس بات کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سچی ہے ﴿5﴾ اور جزا و سزا بہرحال واقع ہونے والی ہے ﴿6﴾ اور مختلف راستوں والے آسمان کی قسم ﴿7﴾ کہ تم لوگ مختلف باتوں میں پڑے ہوئے ہو ﴿8﴾ حق سے وہی گمراہ کیا جا سکتا ہے جو بہکایا جا چکا ہے ﴿9﴾ بیشک اٹکل پچو لگانے والے مارے جائیں گے ﴿10﴾ جو اپنی غفلت میں بھولے پڑے ہوئے ہیں ﴿11﴾ یہ پوچھتے ہیں کہ آخر قیامت کا دن کب آئے گا ﴿12﴾ تو یہ وہی دن ہے جس دن انہیں جہنّم کی آگ پر تپایا جائے گا ﴿13﴾ کہ اب اپنا عذاب چکھو اور یہی وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی مچائے ہوئے تھے ﴿14﴾ بیشک متقی افراد باغات اور چشموں کے درمیان ہوں گے ﴿15﴾ جو کچھ ان کا پروردگار عطا کرنے والا ہے اسے وصول کر رہے ہوں گے کہ یہ لوگ پہلے سے نیک کردار تھے ﴿16﴾ یہ رات کے وقت بہت کم سوتے تھے ﴿17﴾ پھر دھیرے دھیرے چلنے والی ہیں ﴿3﴾ ان ہواؤں کی قسم جو بادلوں کو منتشر کرنے والی ہیں ﴿1﴾ بھر بادل کا بوجھ اٹھانے والی ہیں ﴿2﴾ اور سحر کے وقت اللہ کی بارگاہ میں استغفار کیا کرتے تھے ﴿18﴾ اور ان کے اموال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے محروم افراد کے لئے ایک حق تھا ﴿19﴾ اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں ﴿20﴾ اور خود تمہارے اندر بھی - کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو ﴿21﴾ اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جن باتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے سب کچھ موجود ہے ﴿22﴾ آسمان و زمین کے مالک کی قسم یہ قرآن بالکل برحق ہے جس طرح تم خو دباتیں کر رہے ہو ﴿23﴾ کیا تمہارے پاس ابراہیم علیہ السّلام کے محترم مہمانوں کا ذکر پہنچا ہے ﴿24﴾ جب وہ ان کے پاس وارد ہوئے اور سلام کیا تو ابراہیم علیہ السّلام نے جواب سلام دیتے ہوئے کہا کہ تم تو انجانی قوم معلوم ہوتے ہو ﴿25﴾ پھر اپنے گھر جا کر ایک موٹا تازہ بچھڑا تیار کر کے لے آئے ﴿26﴾ پھر ان کی طرف بڑھا دیا اور کہا کیا آپ لوگ نہیں کھاتے ہیں ﴿27﴾ پھر اپنے نفس میں خوف کا احساس کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں اور پھر انہیں ایک دانشمند فرزند کی بشارت دیدی ﴿28﴾ یہ سن کر ان کی زوجہ شور مچاتی ہوئی آئیں اور انہوں نے منہ پیٹ لیا کہ میں بڑھیا بانجھ (یہ کیا بات ہے ﴿29﴾ ان لوگوں نے کہا یہ ایسا ہی ہو گا یہ تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے وہ بڑی حکمت والا اور ہر چیز کا جاننے والا ہے ﴿30﴾ ابراہیم علیہ السّلام نے کہا کہ اے فرشتو تمہیں کیا مہم درپیش ہے ﴿31﴾ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے ﴿32﴾ تاکہ ان کے اوپر مٹی کے کھرنجے دار پتھر برسائیں ﴿33﴾ جن پر پروردگار کی طرف سے حد سے گزر جانے والوں کے لئے نشانی لگی ہوئی ہے ﴿34﴾ پھر ہم نے اس بستی کے تمام مومنین کو باہر نکال لیا ﴿35﴾ اور وہاں مسلمانوں کے ایک گھر کے علاوہ کسی کو پایا بھی نہیں ﴿36﴾ اور وہاں ان لوگوں کے لئے ایک نشانی بھی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرنے والے ہیں ﴿37﴾ اور موسیٰ علیہ السّلام کے واقعہ میں بھی ہماری نشانیاں ہیں جب ہم نے ان کو فرعون کی طرف کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا ﴿38﴾ تو اس نے لشکر کے دم پر منہ موڑ لیا اور کہا کہ یہ جادوگر یا دیوانہ ہے ﴿39﴾ تو ہم نے اسے اور اس کی فوج کو گرفت میں لے کر دریا میں ڈال دیا اور وہ قابل ملامت تھا ہی ﴿40﴾ اور قوم عاد میں بھی ایک نشانی ہے جب ہم نے ان کی طرف بانجھ ہوا کو چلا دیا ﴿41﴾ کہ جس چیز کے پاس سے گزر جاتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح ریزہ ریزہ کر دیتی تھی ﴿42﴾ اور قوم ثمود میں بھی ایک نشانی ہے جب ان سے کہا گیا کہ تھوڑے دنوں مزے کر لو ﴿43﴾ تو ان لوگوں نے حکم خدا کی نافرمانی کی تو انہیں بجلی نے اپنی گرفت میں لے لیا اور وہ دیکھتے ہی رہ گئے ﴿44﴾ پھر نہ وہ اٹھنے کے قابل تھے اور نہ مدد طلب کرنے کے لائق تھے ﴿45﴾ اور ان سے پہلے قوم نوح تھی کہ وہ تو سب ہی فاسق اور بدکار تھے ﴿46﴾ اور آسمان کو ہم نے اپنی طاقت سے بنایا ہے اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں ﴿47﴾ اور زمین کو ہم نے فرش کیا ہے تو ہم بہترین ہموار کرنے والے ہیں ﴿48﴾ اور ہر شے میں سے ہم نے جوڑا بنایا ہے کہ شاید تم نصیحت حاصل کر سکو ﴿49﴾ لہذا اب خدا کی طرف دوڑ پڑو کہ میں کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں ﴿50﴾ اور خبردار اس کے ساتھ کسی دوسرے کو خدا نہ بنانا کہ میں تمہارے لئے واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ﴿51﴾ اسی طرح ان سے پہلے کسی قوم کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر یہ کہ ان لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ﴿52﴾ کیا انہوں نے ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کی ہے - نہیں بلکہ یہ سب کے سب سرکش ہیں ﴿53﴾ لہٰذا آپ ان سے منہ موڑ لیں پھر آپ پر کوئی الزام نہیں ہے ﴿54﴾ اور یاد دہانی بہرحال کراتے رہے کہ یاد دہانی صاحبانِ ایمان کے حق میں مفید ہوتی ہے ﴿55﴾ اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ﴿56﴾ میں ان سے نہ رزق کا طلبگار ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کچھ کھلائیں ﴿57﴾ بیشک رزق دینے والا،صاحبِ قوت اور زبردست صرف علیہ السّلام اللہ ہے ﴿58﴾ پھر ان ظالمین کے لئے بھی ویسے ہی نتائج ہیں جیسے ان کے اصحاب کے لئے تھے لہذا یہ جلدی نہ کریں ﴿59﴾ پھر کفار کے لئے اس دن ویل اور عذاب ہے جس دن کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے ﴿60﴾