بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ ﴿4﴾ حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ ۖ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ﴿5﴾ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَىٰ شَيْءٍ نُكُرٍ ﴿6﴾ خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُنْتَشِرٌ ﴿7﴾ مُهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ ﴿8﴾ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ ﴿9﴾ فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ ﴿10﴾ فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ ﴿11﴾ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ﴿12﴾ وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ ﴿13﴾ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ ﴿14﴾ وَلَقَدْ تَرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ﴿15﴾ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ﴿16﴾ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ﴿17﴾ وَكَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَكُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِرٌّ ﴿3﴾ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ﴿1﴾ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ ﴿2﴾ كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ﴿18﴾ إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ ﴿19﴾ تَنْزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ ﴿20﴾ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ﴿21﴾ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ﴿22﴾ كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُرِ ﴿23﴾ فَقَالُوا أَبَشَرًا مِنَّا وَاحِدًا نَتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَفِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ ﴿24﴾ أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ ﴿25﴾ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ ﴿26﴾ إِنَّا مُرْسِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ ﴿27﴾ وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ ۖ كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ ﴿28﴾ فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ ﴿29﴾ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ﴿30﴾ إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ ﴿31﴾ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ﴿32﴾ كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ ﴿33﴾ إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ ۖ نَجَّيْنَاهُمْ بِسَحَرٍ ﴿34﴾ نِعْمَةً مِنْ عِنْدِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي مَنْ شَكَرَ ﴿35﴾ وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ ﴿36﴾ وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَنْ ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ ﴿37﴾ وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُسْتَقِرٌّ ﴿38﴾ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ ﴿39﴾ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ﴿40﴾ وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ ﴿41﴾ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُقْتَدِرٍ ﴿42﴾ أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَٰئِكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ ﴿43﴾ أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ ﴿44﴾ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ ﴿45﴾ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ ﴿46﴾ إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ ﴿47﴾ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ ﴿48﴾ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ﴿49﴾ وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ ﴿50﴾ وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا أَشْيَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ﴿51﴾ وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ ﴿52﴾ وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرٌ ﴿53﴾ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ ﴿54﴾ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ ﴿55﴾

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

یقیناً ان کے پاس اتنی خبریں آ چکی ہیں جن میں تنبیہ کا سامان موجود ہے ﴿4﴾ انتہائی درجہ کی حکمت کی باتیں ہیں لیکن انہیں ڈرانے والی باتیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتیں ﴿5﴾ لہذا آپ ان سے منہ پھیر لیں جس دن ایک بلانے والا (اسرافیل) انہیں ایک ناپسندیدہ امر کی طرف بلائے گا ﴿6﴾ یہ نظریں جھکائے ہوئے قبروں سے اس طرح نکلیں گے جس طرح ٹڈیاں پھیلی ہوئی ہوں ﴿7﴾ سب کسی بلانے والے کی طرف سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہوں گے اور کفار یہ کہہ رہے ہوں گے کہ آج کا دن بڑا سخت دن ہے ﴿8﴾ ان سے پہلے قوم نوح نے بھی تکذیب کی تھی کہ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہہ دیا کہ یہ دیوانہ ہے بلکہ اسے جھڑکا بھی گیا ﴿9﴾ تو اس نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں مغلوب ہو گیا ہوں میری مدد فرما ﴿10﴾ تو ہم نے ایک موسلا دھار بارش کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دیئے ﴿11﴾ اور زمین سے بھی چشمے جاری کر دیئے اور پھر دونوں پانی ایک خاص مقررہ مقصد کے لئے باہم مل گئے ﴿12﴾ اور ہم نے نوح علیہ السّلام کو تختوں اور کیلوں والی کشتی میں سوار کر لیا ﴿13﴾ جو ہماری نگاہ کے سامنے چل رہی تھی اور یہ اس بندے کی جزا تھی جس کا انکار کیا گیا تھا ﴿14﴾ اور ہم نے اسے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا ہے تو کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ﴿15﴾ پھر ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا ثابت ہوا ﴿16﴾ اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ﴿17﴾ اور انہوں نے تکذیب کی اور اپنی خواہشات کا اتباع کیا اور ہر بات کی ایک منزل ہوا کرتی ہے ﴿3﴾ قیامت قریب آ گئی اور چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے ﴿1﴾ اور یہ کوئی بھی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک مسلسل جادو ہے ﴿2﴾ اور قوم عاد نے بھی تکذیب کی تو ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا رہا ﴿18﴾ ہم نے ان کی اوپر تیز و تند آندھی بھیج دی ایک مسلسل نحوست والے منحوس دن میں ﴿19﴾ جو لوگوں کو جگہ سے یوں اُٹھا لیتی تھی جیسے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں ﴿20﴾ پھر دیکھو ہمارا ذاب اور ڈرانا کیسا ثابت ہوا ﴿21﴾ اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ﴿22﴾ اور ثمود نے بھی پیغمبروں علیہ السّلام کو جھٹلایا ﴿23﴾ اور کہہ دیا کہ کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک شخص کا اتباع کر لیں اس طرح تو ہم گمراہی اور دیوانگی کا شکار ہو جائیں گے ﴿24﴾ کیا ہم سب کے درمیان ذکر صرف اسی پر نازل ہوا ہے درحقیقت یہ جھوٹا ہے اور بڑائی کا طلبگار ہے ﴿25﴾ تو عنقریب کل ہی انہیں معلوم ہو جائے گا جھوٹا اور متکبر کون ہے ﴿26﴾ ہم ان کے امتحان کے لئے ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں لہذا تم اس کا انتظار کرو اور صبر سے کام لو ﴿27﴾ اور انہیں باخبر کر دو کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا اور ہر ایک کو اپنی باری پر حاضر ہونا چاہئے ﴿28﴾ تو ان لوگوں نے اپنے ساتھی کو آواز دی اور اس نے اونٹنی کو پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ دیں ﴿29﴾ پھر سب نے دیکھا کہ ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا ثابت ہوا ﴿30﴾ ہم نے ان کے اوپر ایک چنگھاڑ کو بھیج دیا تو یہ سب کے سب باڑے کے بھوسے کی طرح ہو گئے ﴿31﴾ اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ﴿32﴾ اور قوم لوط نے بھی پیغمبروں علیہ السّلام کو جھٹلایا ﴿33﴾ تو ہم نے ان کے اوپر پتھر برسائے صرف لوط کی آل کے علاوہ کہ ان کو سحر کے ہنگام ہی بچا لیا ﴿34﴾ یہ ہماری ایک نعمت تھی اور اسی طرح ہم شکر گزار بندوں کو جزا دیتے ہیں ﴿35﴾ اور لوط نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا لیکن ان لوگوں نے ڈرانے ہی میں شک کیا ﴿36﴾ اور ان سے مہمان کے بارے میں ناجائز مطالبات کرنے لگے تو ہم نے ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا کہ اب عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو ﴿37﴾ اور ان کے اوپر صبح سویرے نہ ٹلنے والا عذاب نازل ہو گیا ﴿38﴾ کہ اب ہمارے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو ﴿39﴾ اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ﴿40﴾ اور فرعون والوں تک بھی پیغمبر علیہ السّلام آئے ﴿41﴾ تو انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کا انکار کر دیا تو ہم نے بھی ایک زبردست صاحبِ اقتدار کی طرح انہیں اپنی گرفت میں لے لیا ﴿42﴾ تو کیا تمہارے کفار ان سب سے بہتر ہیں یا ان کے لئے کتابوں میں کوئی معافی نامہ لکھ دیا گیا ہے ﴿43﴾ یا ان کا کہنا یہ ہے کہ ہمارے پاس بڑی جماعت ہے جو ایک دوسرے کی مدد کرنے والی ہے ﴿44﴾ عنقریب یہ جماعت شکست کھا جائے گی اور سب پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ﴿45﴾ بلکہ ان کا موعد قیامت کا ہے اور قیامت انتہائی سخت اور تلخ حقیقت ہے ﴿46﴾ بلکہ ان کا موعد قیامت کا ہے اور قیامت انتہائی سخت اور تلخ حقیقت ہے ﴿47﴾ قیامت کے دن یہ آگ پر منہ کے بل کھینچے جائیں گے کہ اب جہنمّ کا مزہ چکھو ﴿48﴾ بیشک ہم نے ہر شے کو ایک اندازہ کے مطابق پیدا کیا ہے ﴿49﴾ اور ہمارا حکم پلک جھپکنے کی طرح کی ایک بات ہے ﴿50﴾ اور ہم نے تمہارے ساتھیوں کو پہلے ہی ہلاک کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ﴿51﴾ اور ان لوگوں نے جو کچھ بھی کیا ہے سب نامہ اعمال میں محفوظ ہے ﴿52﴾ اور ہر چھوٹا اور بڑا عمل اس میں درج کر دیا گیا ہے ﴿53﴾ بیشک صاحبانِ تقویٰ باغات اور نہروں کے درمیان ہوں گے ﴿54﴾ اس پاکیزہ مقام پر جو صاحبِ اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے ﴿55﴾