بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ ﴿1﴾ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ ﴿2﴾ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ ﴿3﴾ وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ﴿4﴾ فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ ﴿5﴾ بِأَيْيِكُمُ الْمَفْتُونُ ﴿6﴾ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ﴿7﴾ فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ ﴿8﴾ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ﴿9﴾ وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ ﴿10﴾ هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿11﴾ مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿12﴾ عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ﴿13﴾ أَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ ﴿14﴾ إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴿15﴾ سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ ﴿16﴾ إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ ﴿17﴾ وَلَا يَسْتَثْنُونَ ﴿18﴾ فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِنْ رَبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ ﴿19﴾ فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ ﴿20﴾ فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ ﴿21﴾ أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَارِمِينَ ﴿22﴾ فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ ﴿23﴾ أَنْ لَا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِسْكِينٌ ﴿24﴾ وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ ﴿25﴾ فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ ﴿26﴾ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ﴿27﴾ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ ﴿28﴾ قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ ﴿29﴾ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ ﴿30﴾ قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ ﴿31﴾ عَسَىٰ رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا رَاغِبُونَ ﴿32﴾ كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿33﴾ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿34﴾ أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ ﴿35﴾ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ﴿36﴾ أَمْ لَكُمْ كِتَابٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ ﴿37﴾ إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ ﴿38﴾ أَمْ لَكُمْ أَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۙ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ ﴿39﴾ سَلْهُمْ أَيُّهُمْ بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ ﴿40﴾ أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ فَلْيَأْتُوا بِشُرَكَائِهِمْ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ ﴿41﴾ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ ﴿42﴾ خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ ﴿43﴾ فَذَرْنِي وَمَنْ يُكَذِّبُ بِهَٰذَا الْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ ﴿44﴾ وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ ﴿45﴾ أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ ﴿46﴾ أَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ ﴿47﴾ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌ ﴿48﴾ لَوْلَا أَنْ تَدَارَكَهُ نِعْمَةٌ مِنْ رَبِّهِ لَنُبِذَ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ مَذْمُومٌ ﴿49﴾ فَاجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّالِحِينَ ﴿50﴾ وَإِنْ يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ ﴿51﴾ وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ ﴿52﴾

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

نۤ،قلم اور اس چیز کی قسم جو یہ لکھ رہے ہیں ﴿1﴾ آپ اپنے پروردگار کی نعمت کے طفیل مجنون نہیں ہیں ﴿2﴾ اور آپ کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے ﴿3﴾ اور آپ بلند ترین اخلاق کے درجہ پر ہیں ﴿4﴾ عنقریب آپ بھی دیکھیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے ﴿5﴾ کہ دیوانہ کون ہے ﴿6﴾ آپ کا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بہک گیا ہے اور کون ہدایت یافتہ ہے ﴿7﴾ لہذا آپ جھٹلانے والوں کی اطاعت نہ کریں ﴿8﴾ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ذرا نرم ہو جائیں تو یہ بھی نرم ہو جائیں ﴿9﴾ اور خبردار آپ کسی بھی مسلسل قسم کھانے والے ذلیل ﴿10﴾ عیب جو اور اعلیٰ درجہ کے چغلخور ﴿11﴾ مال میں بیحد بخل کرنے والے ،تجاوز گناہگار ﴿12﴾ بدمزاج اور اس کے بعد بد نسل کی اطاعت نہ کریں ﴿13﴾ صرف اس بات پر کہ یہ صاحبِ مال و اولاد ہے ﴿14﴾ جب اس کے سامنے آیات اِلٰہیہ کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہہ دیتا ہے کہ یہ سب اگلے لوگوں کی داستانیں ہیں ﴿15﴾ ہم عنقریب اس کی ناک پر نشان لگا دیں گے ﴿16﴾ ہم نے ان کو اسی طرح آزمایا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمایا تھا جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ صبح کو پھل توڑ لیں گے ﴿17﴾ اور انشاء اللہ نہیں کہیں گے ﴿18﴾ تو خدا کی طرف سے راتوں رات ایک بلا نے چکر لگایا جب یہ سب سو رہے تھے ﴿19﴾ اور سارا باغ جل کر کالی رات جیسا ہو گیا ﴿20﴾ پھر صبح کو ایک نے دوسرے کو آواز دی ﴿21﴾ کہ پھل توڑنا ہے تو اپنے اپنے کھیت کی طرف چلو ﴿22﴾ پھر سب گئے اس عالم میں کہ آپس میں راز دارانہ باتیں کر رہے تھے ﴿23﴾ کہ خبردار آج باغ میں کوئی مسکین داخل نہ ہونے پائے ﴿24﴾ اور روک تھام کا بندوبست کر کے صبح سویرے پہنچ گئے ﴿25﴾ اب جو باغ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم تو بہک گئے ﴿26﴾ بلکہ بالکل سے محروم ہو گئے ﴿27﴾ تو ان کے منصف مزاج نے کہا کہ میں نے نہ کہا تھا کہ تم لوگ تسبیح پروردگار کیوں نہیں کرتے ﴿28﴾ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک و بے نیاز ہے اور ہم واقعتاً ظالم تھے ﴿29﴾ پھر ایک نے دوسرے کو ملامت کرنا شروع کر دی ﴿30﴾ کہنے لگے کہ افسوس ہم بالکل سرکش تھے ﴿31﴾ شائد ہمارا پروردگار ہمیں اس سے بہتر دے دے کہ ہم اس کی طرف رغبت کرنے والے ہیں ﴿32﴾ اسی طرح عذاب نازل ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب تو اس سے بڑا ہے اگر انہیں علم ہو ﴿33﴾ بیشک صاحبانِ تقویٰ کے لئے پروردگار کے یہاں نعمتوں کی جنّت ہے ﴿34﴾ کیا ہم اطاعت گزاروں کو مجرموں جیسا بنا دیں ﴿35﴾ تمہیں کیا ہو گیا ہے کیسا فیصلہ کر رہے ہو ﴿36﴾ یا تمہاری کوئی کتاب ہے جس میں یہ سب پڑھا کرتے ہو ﴿37﴾ کہ وہاں تمہاری پسند کی ساری چیزیں حاضر ملیں گی ﴿38﴾ یا تم نے ہم سے روزِ قیامت تک کی قسمیں لے رکھی ہیں کہ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جس کا تم فیصلہ کرو گے ﴿39﴾ ان سے پوچھئے کہ ان سب باتوں کا ذمہ دار کون ہے ﴿40﴾ یا ان کے لئے شرکاء ہیں تو اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شرکاء کو لے آئیں ﴿41﴾ جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور انہیں سجدوں کی دعوت دی جائے گی اور یہ سجدہ بھی نہ کر سکیں گے ﴿42﴾ ان کی نگاہیں شرم سے جھکی ہوں گی ذلّت ان پر چھائی ہو گی اور انہیں اس وقت بھی سجدوں کی دعوت دی جا رہی تھی جب یہ بالکل صحیح و سالم تھے ﴿43﴾ تو اب مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دو ہم عنقریب انہیں اس طرح گرفتار کریں گے کہ انہیں اندازہ بھی نہ ہو گا ﴿44﴾ اور ہم تو اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ ہماری تدبیر مضبوط ہے ﴿45﴾ کیا آپ ان سے مزدوری مانگ رہے ہیں جو یہ اس کے تاوان کے بوجھ سے دبے جا رہے ہیں ﴿46﴾ یا ان کے پاس کوئی غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں ﴿47﴾ اب آپ اپنے پروردگار کے حکم کے لئے صبر کریں اور صاحبِ حوت جیسے نہ ہو جائیں جب انہوں نے نہایت غصّہ کے عالم میں آواز دی تھی ﴿48﴾ کہ اگر انہیں نعمت پروردگار نے سنبھال نہ لیا ہوتا تو انہیں چٹیل میدان میں برے حالوں میں چھوڑ دیا جاتا ﴿49﴾ پھر ان کے رب نے انہیں منتخب کر کے نیک کرداروں میں قرار دے دیا ﴿50﴾ اور یہ کفاّر قرآن کو سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ عنقریب آپ کو نظروں سے پھسلا دیں گے اور یہ کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانے ہیں ﴿51﴾ حالانکہ یہ قرآن عالمین کے لئے نصیحت ہے اور بس ﴿52﴾