بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ ﴿4﴾ فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ ﴿5﴾ وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ ﴿6﴾ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ ﴿7﴾ فَهَلْ تَرَىٰ لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ ﴿8﴾ وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ ﴿9﴾ فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَابِيَةً ﴿10﴾ إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ ﴿11﴾ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ ﴿12﴾ فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ ﴿13﴾ وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً ﴿14﴾ فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ﴿15﴾ وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ ﴿16﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحَاقَّةُ ﴿3﴾ الْحَاقَّةُ ﴿1﴾ مَا الْحَاقَّةُ ﴿2﴾ وَالْمَلَكُ عَلَىٰ أَرْجَائِهَا ۚ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ ﴿17﴾ يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنْكُمْ خَافِيَةٌ ﴿18﴾ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ ﴿19﴾ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ ﴿20﴾ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ ﴿21﴾ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ ﴿22﴾ قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ ﴿23﴾ كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ ﴿24﴾ وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ ﴿25﴾ وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ ﴿26﴾ يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ ﴿27﴾ مَا أَغْنَىٰ عَنِّي مَالِيَهْ ۜ ﴿28﴾ هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ ﴿29﴾ خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ﴿30﴾ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ ﴿31﴾ ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ ﴿32﴾ إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ ﴿33﴾ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿34﴾ فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ ﴿35﴾ وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ ﴿36﴾ لَا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ ﴿37﴾ فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ ﴿38﴾ وَمَا لَا تُبْصِرُونَ ﴿39﴾ إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ﴿40﴾ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ ﴿41﴾ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ ﴿42﴾ تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿43﴾ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿44﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿45﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿46﴾ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ ﴿47﴾ وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِلْمُتَّقِينَ ﴿48﴾ وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنْكُمْ مُكَذِّبِينَ ﴿49﴾ وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكَافِرِينَ ﴿50﴾ وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ ﴿51﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ﴿52﴾

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

قوم ثمود و عاد نے اس کھڑ کھڑانے والی کا انکار کیا تھا ﴿4﴾ تو ثمود ایک چنگھاڑ کے ذریعہ ہلاک کر دیئے گئے ﴿5﴾ اور عاد کو انتہائی تیز و تند آندھی سے برباد کر دیا گیا ﴿6﴾ جسے ان کے اوپر سات رات اور آٹھ دن کے لئے مسلسل مسخر کر دیا گیا تو تم دیکھتے ہو کہ قوم بالکل مردہ پڑی ہوئی ہے جیسے کھوکھلے کھجور کے درخت کے تنے ﴿7﴾ تو کیا تم ان کا کوئی باقی رہنے والا حصہّ دیکھ رہے ہو ﴿8﴾ اور فرعون اور اس سے پہلے اور الٹی بستیوں والے سب نے غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے ﴿9﴾ کہ پروردگار کے نمائندہ کی نافرمانی کی تو پروردگار نے انہیں بڑی سختی سے پکڑ لیا ﴿10﴾ ہم نے تم کو اس وقت کشتی میں اٹھا لیا تھا جب پانی سر سے چڑھ رہا تھا ﴿11﴾ تاکہ اسے تمہارے لئے نصیحت بنائیں اور محفوظ رکھنے والے کان سن لیں ﴿12﴾ پھر جب صور میں پہلی مرتبہ پھونکا جائے گا ﴿13﴾ اور زمین اور پہاڑوں کو اکھاڑ کر ٹکرا کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا ﴿14﴾ تو اس دن قیامت واقع ہو جائے گی ﴿15﴾ اور آسمان شق ہو کر بالکل پھس پھسے ہو جائیں گے ﴿16﴾ اور تم کیا جانو کہ یہ یقیناً پیش آنے والی شے کیا ہے ﴿3﴾ یقیناً پیش آنے والی قیامت ﴿1﴾ اور کیسی پیش آنے والی ﴿2﴾ اور فرشتے اس کے اطراف پر ہوں گے اور عرش الہٰی کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے ﴿17﴾ اس دن تم کو منظر عام پر لایا جائے گا اور تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی ﴿18﴾ پھر جس کو نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ سب سے کہے گا کہ ذرا میرا نامۂ اعمال تو پڑھو ﴿19﴾ مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ میرا حساب مجھے ملنے والا ہے ﴿20﴾ پھر وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا ﴿21﴾ بلند ترین باغات میں ﴿22﴾ اس کے میوے قریب قریب ہوں گے ﴿23﴾ اب آرام سے کھاؤ پیو کہ تم نے گزشتہ دنوں میں ان نعمتوں کا انتظام کیا ہے ﴿24﴾ لیکن جس کو نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا اے کاش یہ نامہ اعمال مجھے نہ دیا جاتا ﴿25﴾ اور مجھے اپنا حساب نہ معلوم ہوتا ﴿26﴾ اے کاش اس موت ہی نے میرا فیصلہ کر دیا ہوتا ﴿27﴾ میرا مال بھی میرے کام نہ آیا ﴿28﴾ اور میری حکومت بھی برباد ہو گئی ﴿29﴾ اب اسے پکڑو اور گرفتار کر لو ﴿30﴾ پھر اسے جہنم ّمیں جھونک دو ﴿31﴾ پھر ایک ستر گز کی رسی میں اسے جکڑ لو ﴿32﴾ یہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا ﴿33﴾ اور لوگوں کو مسکینوں کو کھلانے پر آمادہ نہیں کرتا تھا ﴿34﴾ تو آج اس کا یہاں کوئی غمخوار نہیں ہے ﴿35﴾ اور نہ پیپ کے علاوہ کوئی غذا ہے ﴿36﴾ جسے گنہگاروں کے علاوہ کوئی نہیں کھا سکتا ﴿37﴾ میں اس کی بھی قسم کھاتا ہوں جسے تم دیکھ رہے ہو ﴿38﴾ اور اس کی بھی جس کو نہیں دیکھ رہے ہو ﴿39﴾ کہ یہ ایک محترم فرشتے کا بیان ہے ﴿40﴾ اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے ہاں تم بہت کم ایمان لاتے ہو ﴿41﴾ اور یہ کسی کاہن کا کلام نہیں ہے جس پر تم بہت کم غور کرتے ہو ﴿42﴾ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے ﴿43﴾ اور اگر یہ پیغمبر ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتا ﴿44﴾ تو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑ لیتے ﴿45﴾ اور پھر اس کی گردن اڑا دیتے ﴿46﴾ پھر تم میں سے کوئی مجھے روکنے والا نہ ہوتا ﴿47﴾ اور یہ قرآن صاحبانِ تقویٰ کے لئے نصیحت ہے ﴿48﴾ اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے جھٹلانے والے بھی ہیں ﴿49﴾ اور یہ کافرین کے لئے باعثِ حسرت ہے ﴿50﴾ اور یہ بالکل یقینی چیز ہے ﴿51﴾ لہذا آپ اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کریں ﴿52﴾