بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ﴿4﴾ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ﴿5﴾ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ﴿6﴾ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ﴿7﴾ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ ﴿8﴾ فَذَٰلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ ﴿9﴾ عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ ﴿10﴾ ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا ﴿11﴾ وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَمْدُودًا ﴿12﴾ وَبَنِينَ شُهُودًا ﴿13﴾ وَمَهَّدْتُ لَهُ تَمْهِيدًا ﴿14﴾ ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿15﴾ كَلَّا ۖ إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا ﴿16﴾ قُمْ فَأَنْذِرْ ﴿2﴾ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ﴿3﴾ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ﴿1﴾ سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا ﴿17﴾ إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ﴿18﴾ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿19﴾ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿20﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿21﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿22﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ ﴿23﴾ فَقَالَ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ﴿24﴾ إِنْ هَٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ﴿25﴾ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿26﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ ﴿27﴾ لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ ﴿28﴾ لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ ﴿29﴾ عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ ﴿30﴾ وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِكَةً ۙ وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا ۙ وَلَا يَرْتَابَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْمُؤْمِنُونَ ۙ وَلِيَقُولَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْكَافِرُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ ۚ وَمَا هِيَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْبَشَرِ ﴿31﴾ كَلَّا وَالْقَمَرِ ﴿32﴾ وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ ﴿33﴾ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ ﴿34﴾ إِنَّهَا لَإِحْدَى الْكُبَرِ ﴿35﴾ نَذِيرًا لِلْبَشَرِ ﴿36﴾ لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ ﴿37﴾ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ﴿38﴾ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ ﴿39﴾ فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ ﴿40﴾ عَنِ الْمُجْرِمِينَ ﴿41﴾ مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ ﴿42﴾ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ ﴿43﴾ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ ﴿44﴾ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ ﴿45﴾ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ ﴿46﴾ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ ﴿47﴾ فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ ﴿48﴾ فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ ﴿49﴾ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ ﴿50﴾ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ﴿51﴾ بَلْ يُرِيدُ كُلُّ امْرِئٍ مِنْهُمْ أَنْ يُؤْتَىٰ صُحُفًا مُنَشَّرَةً ﴿52﴾ كَلَّا ۖ بَلْ لَا يَخَافُونَ الْآخِرَةَ ﴿53﴾ كَلَّا إِنَّهُ تَذْكِرَةٌ ﴿54﴾ فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ ﴿55﴾ وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ ۚ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَىٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ ﴿56﴾

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

اور اپنے لباس کو پاکیزہ رکھو ﴿4﴾ اور برائیوں سے پرہیز کرو ﴿5﴾ اور اس طرح احسان نہ کرو کہ زیادہ کے طلب گار بن جاؤ ﴿6﴾ اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو ﴿7﴾ پھر جب صور پھونکا جائے گا ﴿8﴾ تو وہ دن انتہائی مشکل دن ہو گا ﴿9﴾ کافروں کے واسطے تو ہر گز آسان نہ ہو گا ﴿10﴾ اب مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دو جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا ہے ﴿11﴾ اور اس کے لئے کثیر مال قرار دیا ہے ﴿12﴾ اور نگاہ کے سامنے رہنے والے بیٹے قرار دیئے ہیں ﴿13﴾ اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دے دی ہے ﴿14﴾ اور پھر بھی چاہتا ہے کہ اور اضافہ کر دوں ﴿15﴾ ہرگز نہیں یہ ہماری نشانیوں کا سخت دشمن تھا ﴿16﴾ اٹھو اور لوگوں کو ڈراؤ ﴿2﴾ اور اپنے رب کی بزرگی کا اعلان کرو ﴿3﴾ اے میرے کپڑا اوڑھنے والے ﴿1﴾ تو ہم عنقریب اسے سخت عذاب میں گرفتار کریں گے ﴿17﴾ اس نے فکر کی اور اندازہ لگایا ﴿18﴾ تو اسی میں مارا گیا کہ کیسا اندازہ لگایا ﴿19﴾ پھر اسی میں اور تباہ ہو گیا کہ کیسا اندازہ لگایا ﴿20﴾ پھر غور کیا ﴿21﴾ پھر تیوری چڑھا کر منہ بسور لیا ﴿22﴾ پھر منہ پھیر کر چلا گیا اور اکڑ گیا ﴿23﴾ اور آخر میں کہنے لگا کہ یہ تو ایک جادو ہے جو پرانے زمانے سے چلا آ رہا ہے ﴿24﴾ یہ تو صرف انسان کا کلام ہے ﴿25﴾ ہم عنقریب اسے جہنمّ واصل کر دیں گے ﴿26﴾ اور تم کیا جانو کہ جہنمّ کیا ہے ﴿27﴾ وہ کسی کو چھوڑنے والا اور باقی رکھنے والا نہیں ہے ﴿28﴾ بدن کو جلا کر سیاہ کر دینے والا ہے ﴿29﴾ اس پر انیس فرشتے معین ہیں ﴿30﴾ اور ہم نے جہنمّ کا نگہبان صرف فرشتوں کو قرار دیا ہے اور ان کی تعداد کو کفار کی آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے کہ اہل کتاب کو یقین حاصل ہو جائے اور ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہو جائے اور اہل کتاب یا صاحبانِ ایمان اس کے بارے میں کسی طرح کا شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں مرض ہے اور کفار یہ کہنے لگیں کہ آخر اس مثال کا مقصد کیا ہے اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور اس کے لشکروں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے یہ تو صرف لوگوں کی نصیحت کا ایک ذریعہ ہے ﴿31﴾ ہوشیار ہمیں چاند کی قسم ﴿32﴾ اور جاتی ہوئی رات کی قسم ﴿33﴾ اور روشن صبح کی قسم ﴿34﴾ یہ جہنمّ بڑی چیزوں میں سے ایک چیز ہے ﴿35﴾ لوگوں کے ڈرانے کا ذریعہ ﴿36﴾ ان کے لئے جو آگے پیچھے ہٹنا چاہیں ﴿37﴾ ہر نفس اپنے اعمال میں گرفتار ہے ﴿38﴾ علاوہ اصحاب یمین کے ﴿39﴾ وہ جنتوں میں رہ کر آپس میں سوال کر رہے ہوں گے ﴿40﴾ مجرمین کے بارے میں ﴿41﴾ آخر تمہیں کس چیز نے جہنمّ میں پہنچا دیا ہے ﴿42﴾ وہ کہیں گے کہ ہم نماز گزار نہیں تھے ﴿43﴾ اور مسکین کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے ﴿44﴾ لوگوں کے بُرے کاموں میں شامل ہو جایا کرتے تھے ﴿45﴾ اور روزِ قیامت کی تکذیب کیا کرتے تھے ﴿46﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت آ گئی ﴿47﴾ تو انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش بھی کوئی فائدہ نہ پہنچائے گی ﴿48﴾ آخر انہیں کیا ہو گیا ہے کہ یہ نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں ﴿49﴾ گویا بھڑکے ہوئے گدھے ہیں ﴿50﴾ جو شیر سے بھاگ رہے ہیں ﴿51﴾ حقیقتاً ان میں ہر آدمی اس بات کا خواہش مند ہے کہ اسے کھُلی ہوئی کتابیں عطا کر دی جائیں ﴿52﴾ ہرگز نہیں پو سکتا اصل یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں ہے ﴿53﴾ ہاں ہاں بیشک یہ سراسر نصیحت ہے ﴿54﴾ اب جس کا جی چاہے اسے یاد رکھے ﴿55﴾ اور یہ اسے یاد نہ کریں گے مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے کہ وہی ڈرانے کا اہل اور مغفرت کا مالک ہے ﴿56﴾