بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ ﴿4﴾ بَلْ يُرِيدُ الْإِنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ ﴿5﴾ يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ﴿6﴾ فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ﴿7﴾ وَخَسَفَ الْقَمَرُ ﴿8﴾ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ﴿9﴾ يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ ﴿10﴾ كَلَّا لَا وَزَرَ ﴿11﴾ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ ﴿12﴾ يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ﴿13﴾ بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ ﴿14﴾ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ ﴿15﴾ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ﴿16﴾ وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ﴿2﴾ أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ ﴿3﴾ لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ﴿1﴾ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ﴿17﴾ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ ﴿18﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ﴿19﴾ كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ ﴿20﴾ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ ﴿21﴾ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ ﴿22﴾ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴿23﴾ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ ﴿24﴾ تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ ﴿25﴾ كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ ﴿26﴾ وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ ﴿27﴾ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ ﴿28﴾ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ﴿29﴾ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ ﴿30﴾ فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ ﴿31﴾ وَلَٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿32﴾ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰ أَهْلِهِ يَتَمَطَّىٰ ﴿33﴾ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿34﴾ ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿35﴾ أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى ﴿36﴾ أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَىٰ ﴿37﴾ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ﴿38﴾ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَىٰ ﴿39﴾ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ﴿40﴾

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

یقیناً ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک درست کر سکیں ﴿4﴾ بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے سامنے برائی کرتا چلا جائے ﴿5﴾ وہ یہ پوچھتا ہے کہ یہ قیامت کب آنے والی ہے ﴿6﴾ تو جب آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی ﴿7﴾ اور چاند کو گہن لگ جائے گا ﴿8﴾ اور یہ چاند سورج اکٹھا کر دیئے جائیں گے ﴿9﴾ اس دن انسان کہے گا کہ اب بھاگنے کا راستہ کدھر ہے ﴿10﴾ ہرگز نہیں اب کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ﴿11﴾ اب سب کا مرکز تمہارے پروردگار کی طرف ہے ﴿12﴾ اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے پہلے اور بعد کیا کیا اعمال کئے ہیں ﴿13﴾ بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے ﴿14﴾ چاہے وہ کتنے ہی عذر کیوں نہ پیش کرے ﴿15﴾ دیکھئے آپ قرآن کی تلاوت میں عجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں ﴿16﴾ اور برائیوں پر ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں ﴿2﴾ کیا یہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے ﴿3﴾ میں روزِ قیامت کی قسم کھاتا ہوں ﴿1﴾ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑھوائیں ﴿17﴾ پھر جب ہم پڑھوا دیں تو آپ اس کی تلاوت کو دہرائیں ﴿18﴾ پھر اس کے بعد اس کی وضاحت کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے ﴿19﴾ نہیں بلکہ تم لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہو ﴿20﴾ اور آخرت کو نظر انداز کئے ہوئے ہو ﴿21﴾ اس دن بعض چہرے شاداب ہوں گے ﴿22﴾ اپنے پروردگار کی نعمتوں پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے ﴿23﴾ اور بعض چہرے افسردہ ہوں گے ﴿24﴾ جنہیں یہ خیال ہو گا کہ کب کمر توڑ مصیبت وارد ہو جائے ﴿25﴾ ہوشیار جب جان گردن تک پہنچ جائے گی ﴿26﴾ اور کہا جائے گا کہ اب کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے ﴿27﴾ اور مرنے والے کو خیال ہو گا کہ اب سب سے جدائی ہے ﴿28﴾ اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی ﴿29﴾ آج سب کو پروردگار کی طرف لے جایا جائے گا ﴿30﴾ اس نے نہ کلام خدا کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ﴿31﴾ بلکہ تکذیب کی اور منہ پھیر لیا ﴿32﴾ پھر اپنے اہل کی طرف اکڑتا ہوا گیا ﴿33﴾ افسوس ہے تیرے حال پر بہت افسوس ہے ﴿34﴾ حیف ہے اور صد حیف ہے ﴿35﴾ کیا انسان کا خیال یہ ہے کہ اسے اسی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے گا ﴿36﴾ کیا وہ اس منی کا قطرہ نہیں تھا جسے رحم میں ڈالا جاتا ہے ﴿37﴾ پھر علقہ بنا پھر اسے خلق کر کے برابر کیا ﴿38﴾ پھر اس سے عورت اور مرد کا جوڑا تیار کیا ﴿39﴾ کیا وہ خدا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مُردوں کو دوبارہ زندہ کر سکے ﴿40﴾