بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ ﴿4﴾ هَلْ فِي ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِذِي حِجْرٍ ﴿5﴾ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ﴿6﴾ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ﴿7﴾ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ﴿8﴾ وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ﴿9﴾ وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ ﴿10﴾ الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ ﴿11﴾ فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ ﴿12﴾ فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ ﴿13﴾ إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ﴿14﴾ فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ ﴿15﴾ وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ ﴿16﴾ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ﴿2﴾ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ﴿3﴾ وَالْفَجْرِ ﴿1﴾ كَلَّا ۖ بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ ﴿17﴾ وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿18﴾ وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَمًّا ﴿19﴾ وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ﴿20﴾ كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا ﴿21﴾ وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ﴿22﴾ وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ ﴿23﴾ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي ﴿24﴾ فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ ﴿25﴾ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ ﴿26﴾ يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿27﴾ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً ﴿28﴾ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴿29﴾ وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴿30﴾

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

اور رات کی جب وہ جانے لگے ﴿4﴾ بے شک ان چیزوں میں قسم ہے صاحبِ عقل کے لئے ﴿5﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیا کیا ہے ﴿6﴾ ستون والے ارم والے ﴿7﴾ جس کا مثل دوسرے شہروں میں نہیں پیدا ہوا ہے ﴿8﴾ اور ثمود کے ساتھ جو وادی میں پتھر تراش کر مکان بناتے تھے ﴿9﴾ اور میخوں والے فرعون کے ساتھ ﴿10﴾ جن لوگوں نے شہروں میں سرکشی پھیلائی ﴿11﴾ اور خوب فساد کیا ﴿12﴾ تو پھر خدا نے ان پر عذاب کے کوڑے برسا دیئے ﴿13﴾ بے شک تمہارا پروردگار ظالموں کی تاک میں ہے ﴿14﴾ لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب خدا نے اس کو اس طرح آزمایا کہ عزّت اور نعمت دے دی تو کہنے لگا کہ میرے رب نے مجھے با عزت بنایا ہے ﴿15﴾ اور جب آزمائش کے لئے روزی کو تنگ کر دیا تو کہنے لگا کہ میرے پروردگار نے میری توہین کی ہے ﴿16﴾ اور دس راتوں کی ﴿2﴾ اور جفت و طاق کی ﴿3﴾ قسم ہے فجر کی ﴿1﴾ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ تم یتیموں کا احترام نہیں کرتے ہو ﴿17﴾ اور لوگوں کو م مسکینوں کے کھانے پر آمادہ نہیں کرتے ہو ﴿18﴾ اور میراث کے مال کو اکٹھا کر کے حلال و حرام سب کھا جاتے ہو ﴿19﴾ اور مال دنیا کو بہت دوست رکھتے ہو ﴿20﴾ یاد رکھو کہ جب زمین کو ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا ﴿21﴾ اور تمہارے پروردگار کا حکم اور فرشتے صف در صف آ جائیں گے ﴿22﴾ اور جہنمّ کو اس دن سامنے لایا جائے گا تو انسان کو ہوش آ جائے گا لیکن اس دن ہوش آنے کا کیا فائدہ ﴿23﴾ انسان کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پہلے بھیج دیا ہوتا ﴿24﴾ تو اس دن خدا ویسا عذاب کرے گا جو کسی نے نہ کیا ہو گا ﴿25﴾ اور نہ اس طرح کسی نے گرفتار کیا ہو گا ﴿26﴾ اے نفس مطمئن ﴿27﴾ اپنے رب کی طرف پلٹ آ اس عالم میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے ﴿28﴾ پھر میرے بندوں میں شامل ہو جا ﴿29﴾ اور میری جنت میں داخل ہو جا ﴿30﴾