دعا ۱

وَ كَانَ مِنْ دُعَائِهِ عَلَيْهِ السّلَامُ إِذَا ابْتَدَأَ بِالدّعَاءِ بَدَأَ بِالتّحْمِيدِ لِلّهِ عَزّ وَ جَلّ وَ الثّنَاءِ عَلَيْهِ، فَقَالَ

الْحَمْدُ لِلّهِ الْأَوّلِ بِلَا أَوّلٍ كَانَ قَبْلَهُ، وَ الْ‏آخِرِ بِلَا آخِرٍ يَكُونُ بَعْدَهُ‏ الّذِي قَصُرَتْ عَنْ رُؤْيَتِهِ أَبْصَارُ النّاظِرِينَ، وَ عَجَزَتْ عَنْ نَعْتِهِ أَوْهَامُ الْوَاصِفِينَ. ابْتَدَعَ بِقُدْرَتِهِ الْخَلْقَ ابْتِدَاعاً، وَ اخْتَرَعَهُمْ عَلَى مَشِيّتِهِ اخْتِرَاعاً. ثُمّ سَلَكَ بِهِمْ طَرِيقَ إِرَادَتِهِ، وَ بَعَثَهُمْ فِي سَبِيلِ مَحَبّتِهِ، لَا يَمْلِكُونَ تَأْخِيراً عَمّا قَدّمَهُمْ إِلَيْهِ، وَ لَا يَسْتَطِيعُونَ تَقَدّماً إِلَى مَا أَخّرَهُمْ عَنْهُ. وَ جَعَلَ لِكُلّ رُوحٍ مِنْهُمْ قُوتاً مَعْلُوماً مَقْسُوماً مِنْ رِزْقِهِ، لَا يَنْقُصُ مَنْ زَادَهُ نَاقِصٌ، وَ لَا يَزِيدُ مَنْ نَقَصَ مِنْهُمْ زَائِدٌ. ثُمّ ضَرَبَ لَهُ فِي الْحَيَاةِ أَجَلًا مَوْقُوتاً، وَ نَصَبَ لَهُ أَمَداً مَحْدُوداً، يَتَخَطّى إِلَيْهِ بِأَيّامِ عُمُرِهِ، وَ يَرْهَقُهُ بِأَعْوَامِ دَهْرِهِ، حَتّى إِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَثَرِهِ، وَ اسْتَوْعَبَ حِسَابَ عُمُرِهِ، قَبَضَهُ إِلَى مَا نَدَبَهُ إِلَيْهِ مِنْ مَوْفُورِ ثَوَابِهِ، أَوْ مَحْذُورِ عِقَابِهِ، لِيَجْزِيَ الّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَ يَجْزِيَ الّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى. عَدْلًا مِنْهُ، تَقَدّسَتْ أَسْمَاؤُهُ، وَ تَظاَهَرَتْ آلَاؤُهُ، لَا يُسْأَلُ عَمّا يَفْعَلُ وَ هُمْ يُسْأَلُونَ. وَ الْحَمْدُ لِلّهِ الّذِي لَوْ حَبَسَ عَنْ عِبَادِهِ مَعْرِفَةَ حَمْدِهِ عَلَى مَا أَبْلَاهُمْ مِنْ مِنَنِهِ الْمُتَتَابِعَةِ، وَ أَسْبَغَ عَلَيْهِمْ مِنْ نِعَمِهِ الْمُتَظَاهِرَةِ، لَتَصَرّفُوا فِي مِنَنِهِ فَلَمْ يَحْمَدُوهُ، وَ تَوَسّعُوا فِي رِزْقِهِ فَلَمْ يَشْكُرُوهُ. وَ لَوْ كَانُوا كَذَلِكَ لَخَرَجُوا مِنْ حُدُودِ الْإِنْسَانِيّةِ إِلَى حَدّ الْبَهِيمِيّةِ فَكَانُوا كَمَا وَصَفَ فِي مُحْكَمِ كِتَابِهِ «إِنْ هُمْ إِلّا كَالْأَنْعامِ بَلْ هُمْ أَضَلّ سَبِيلًا.» وَ الْحَمْدُ لِلّهِ عَلَى مَا عَرّفَنَا مِنْ نَفْسِهِ، وَ أَلْهَمَنَا مِنْ شُكْرِهِ، وَ فَتَحَ لَنَا مِنْ أَبْوَابِ الْعِلْمِ بِرُبُوبِيّتِهِ، وَ دَلّنَا عَلَيْهِ مِنَ الْإِخْلَاصِ لَهُ فِي تَوْحِيدِهِ، وَ جَنّبَنَا مِنَ الْإِلْحَادِ وَ الشّكّ فِي أَمْرِهِ. حَمْداً نُعَمّرُ بِهِ فِيمَنْ حَمِدَهُ مِنْ خَلْقِهِ، وَ نَسْبِقُ بِهِ مَنْ سَبَقَ إِلَى رِضَاهُ وَ عَفْوِهِ. حَمْداً يُضِي‏ءُ لَنَا بِهِ ظُلُمَاتِ الْبَرْزَخِ، وَ يُسَهّلُ عَلَيْنَا بِهِ سَبِيلَ الْمَبْعَثِ، وَ يُشَرّفُ بِهِ مَنَازِلَنَا عِنْدَ مَوَاقِفِ الْأَشْهَادِ، يَوْمَ تُجْزَى كُلّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُونَ، يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَنْ مَوْلًى شَيْئاً وَ لَا هُمْ يُنْصَرُونَ. حَمْداً يَرْتَفِعُ مِنّا إِلَى أَعْلَى عِلّيّينَ فِي كِتَابٍ مَرْقُومٍ يَشْهَدُهُ الْمُقَرّبُونَ. حَمْداً تَقَرّ بِهِ عُيُونُنَا إِذَا بَرِقَتِ الْأَبْصَارُ، وَ تَبْيَضّ بِهِ وُجُوهُنَا إِذَا اسْوَدّتِ الْأَبْشَارُ. حَمْداً نُعْتَقُ بِهِ مِنْ أَلِيمِ نَارِ اللّهِ إِلَى كَرِيمِ جِوَارِ اللّهِ. حَمْداً نُزَاحِمُ بِهِ مَلَائِكَتَهُ الْمُقَرّبِينَ، وَ نُضَامّ بِهِ أَنْبِيَاءَهُ الْمُرْسَلِينَ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ الّتِي لَا تَزُولُ، وَ مَحَلّ كَرَامَتِهِ الّتِي لَا تَحُولُ. وَ الْحَمْدُ لِلّهِ الّذِي اخْتَارَ لَنَا مَحَاسِنَ الْخَلْقِ، وَ أَجْرَى عَلَيْنَا طَيّبَاتِ الرّزْقِ. وَ جَعَلَ لَنَا الْفَضِيلَةَ بِالْمَلَكَةِ عَلَى جَمِيعِ الْخَلْقِ، فَكُلّ خَلِيقَتِهِ مُنْقَادَةٌ لَنَا بِقُدْرَتِهِ، وَ صَائِرَةٌ إِلَى طَاعَتِنَا بِعِزّتِهِ. وَ الْحَمْدُ لِلّهِ الّذِي أَغْلَقَ عَنّا بَابَ الْحَاجَةِ إِلّا إِلَيْهِ، فَكَيْفَ نُطِيقُ حَمْدَهُ أَمْ مَتَى نُؤَدّي شُكْرَهُ لَا، مَتَى. وَ الْحَمْدُ لِلّهِ الّذِي رَكّبَ فِينَا آلَاتِ الْبَسْطِ، وَ جَعَلَ لَنَا أَدَوَاتِ الْقَبْضِ، وَ مَتّعَنَا بِأَرْوَاحِ الْحَيَاةِ، وَ أَثْبَتَ فِينَا جَوَارِحَ الْأَعْمَالِ، وَ غَذّانَا بِطَيّبَاتِ الرّزْقِ، وَ أَغْنَانَا بِفَضْلِهِ، وَ أَقْنَانَا بِمَنّهِ. ثُمّ أَمَرَنَا لِيَخْتَبِرَ طَاعَتَنَا، وَ نَهَانَا لِيَبْتَلِيَ شُكْرَنَا، فَخَالَفْنَا عَنْ طَرِيقِ أَمْرِهِ، وَ رَكِبْنَا مُتُونَ زَجْرِهِ، فَلَمْ يَبْتَدِرْنَا بِعُقُوبَتِهِ، وَ لَمْ يُعَاجِلْنَا بِنِقْمَتِهِ، بَلْ تَأَنّانَا بِرَحْمَتِهِ تَكَرّماً، وَ انْتَظَرَ مُرَاجَعَتَنَا بِرَأْفَتِهِ حِلْماً. وَ الْحَمْدُ لِلّهِ الّذِي دَلّنَا عَلَى التّوْبَةِ الّتِي لَمْ نُفِدْهَا إِلّا مِنْ فَضْلِهِ، فَلَوْ لَمْ نَعْتَدِدْ مِنْ فَضْلِهِ إِلّا بِهَا لَقَدْ حَسُنَ بَلَاؤُهُ عِنْدَنَا، وَ جَلّ إِحْسَانُهُ إِلَيْنَا وَ جَسُمَ فَضْلُهُ عَلَيْنَا فَمَا هَكَذَا كَانَتْ سُنّتُهُ فِي التّوْبَةِ لِمَنْ كَانَ قَبْلَنَا، لَقَدْ وَضَعَ عَنّا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ، وَ لَمْ يُكَلّفْنَا إِلّا وُسْعاً، وَ لَمْ يُجَشّمْنَا إِلّا يُسْراً، وَ لَمْ يَدَعْ لِأَحَدٍ مِنّا حُجّةً وَ لَا عُذْراً. فَالْهَالِكُ مِنّا مَنْ هَلَكَ عَلَيْهِ، وَ السّعِيدُ مِنّا مَنْ رَغِبَ إِلَيْهِ‏ وَ الْحَمْدُ لِلّهِ بِكُلّ مَا حَمِدَهُ بِهِ أَدْنَى مَلَائِكَتِهِ إِلَيْهِ وَ أَكْرَمُ خَلِيقَتِهِ عَلَيْهِ وَ أَرْضَى حَامِدِيهِ لَدَيْهِ‏ حَمْداً يَفْضُلُ سَائِرَ الْحَمْدِ كَفَضْلِ رَبّنَا عَلَى جَمِيعِ خَلْقِهِ. ثُمّ لَهُ الْحَمْدُ مَكَانَ كُلّ نِعْمَةٍ لَهُ عَلَيْنَا وَ عَلَى جَمِيعِ عِبَادِهِ الْمَاضِينَ وَ الْبَاقِينَ عَدَدَ مَا أَحَاطَ بِهِ عِلْمُهُ مِنْ جَمِيعِ الْأَشْيَاءِ، وَ مَكَانَ كُلّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا عَدَدُهَا أَضْعَافاً مُضَاعَفَةً أَبَداً سَرْمَداً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. حَمْداً لَا مُنْتَهَى لِحَدّهِ، وَ لَا حِسَابَ لِعَدَدِهِ، وَ لَا مَبْلَغَ لِغَايَتِهِ، وَ لَا انْقِطَاعَ لِأَمَدِهِ‏ حَمْداً يَكُونُ وُصْلَةً إِلَى طَاعَتِهِ وَ عَفْوِهِ، وَ سَبَباً إِلَى رِضْوَانِهِ، وَ ذَرِيعَةً إِلَى مَغْفِرَتِهِ، وَ طَرِيقاً إِلَى جَنّتِهِ، وَ خَفِيراً مِنْ نَقِمَتِهِ، وَ أَمْناً مِنْ غَضَبِهِ، وَ ظَهِيراً عَلَى طَاعَتِهِ، وَ حَاجِزاً عَنْ مَعْصِيَتِهِ، وَ عَوْناً عَلَى تَأْدِيَةِ حَقّهِ وَ وَظَائِفِهِ. حَمْداً نَسْعَدُ بِهِ فِي السّعَدَاءِ مِنْ أَوْلِيَائِهِ، وَ نَصِيرُ بِهِ فِي نَظْمِ الشّهَدَاءِ بِسُيُوفِ أَعْدَائِهِ، إِنّهُ وَلِيّ‏ٌ حَمِيدٌ

الدعا ۱

خداوند عالم کی حمد وستائش

سب تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جو ایسا اوّل ہے جس کے پہلے کوئی اوّل نہ تھا اور ایسا آخر ہے جس کے بعد کوئی آخر نہ ہو گا۔ وہ خدا جس کے دیکھنے سے دیکھنے والوں کی آنکھیں عاجز اور جس کی توصیف و ثنا سے وصف بیان کرنے والوں کی عقلیں قاصر ہیں۔ اس نے کائنات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اور اپنے منشا‎ۓ ازلی سے جیسا چاہا اسے ایجاد کیا ۔ پھر انہیں اپنے ارادہ کے راستے پر چلایا اور اپنی محبت کی راہ پر ابھارا۔ جن حدود کی طرف انہیں آگے بڑھایا ہے ان سے پیچھے رہنا اور جن سے پیچھے رکھا ہے ان سےآگے بڑھنا ان کے قبضہ و اختیار سے باہر ہے ۔ اسی نے ہر ( ذی) روح کے لیۓ اپنے ( پیدا کردہ ) رزق سے معیّن و معلوم روزی مقرر کر دی ہے جسے زیادہ دیا ہے اسےکوئی گھٹانے والا گھٹا نہیں سکتا اور جسے کم دیا ہے اسے کوئی بڑھانے والا بڑھا نہیں سکتا ۔ پھر یہ کہ اسی نے اس کی زندگی کا ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک معینہ مدت اس کے لۓ ٹھہرا دی ۔ جس مدت کی طرف وہ اپنی زندگی کے دنوں سے بڑھتا اور اپنے زمانہ زیست کے سالوں سے اس کے نزدیک ہوتا ہے یہاں تک کہ جب زندگی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور اپنی عمر کا حساب پورا کر لیتا ہے تو اللہ اسے اپنے ثواب بے پایاں تک جس کی طرف اسے بلایا تھا یا خوفناک عذاب کی جانب جسے بیان کر دیا تھا قبض روح کے بعد پہنچا دیتا ہے تاکہ اپنے عدل کی بناء پر بروں کی اس کی بد اعمالیوں کی سزا اور نیکو کاروں کو اچھا بدلا دے ۔ اس کے نام پاکیزہ اور اس کی نعمتوں کا سلسلہ لگاتار ہے ۔ وہ جو کرتا ہے اس کی پوچھہ گھچہ اس سے نہیں ہو سکتی اور لوگوں سے بہرحال باز پرس ہو گی ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے کہ اگر وہ اپنے بندوں کو حمد و شکر کی معرفت سے محروم رکھتا ان پیہم عطیوں پر جو اسں نے دیۓ ہیں اور ان پے درپے نعمتوں پر جو اس نے فراوانی سے بخشی ہیں تو وہ اس کی نعمتوں میں تصّرف تو کرتے مگر اس کی حمد نہ کرتے ۔ اور اس کے رزق میں فارغ البالی سے بسر تو کرتے مگر اس کا شکر بجا نہ لاتے اور ایسے ہوتے تو انسانیت بی حدوں سے نکل کر چوپالوں کی حد میں آ جاتے ، اور اس توصیف کے مصداق ہوتے جو اس نے اپنی محکم کتاب میں کی ہے کہ وہ تو بس چوپائیوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ راہ راست سے بھٹکتے ہو‎ۓ ۔ تمام تعریف اللہ کے لۓ ہے کہ اس نے اپنی ذات کو ہمیں پہچنوایا اور حمد و شکر کا طریقہ سمجھایا اور اپنی پروردگاری پر علم و اطلاع کے دروازے ہمارے لۓ کھول دیۓ اور توحید میں تنزیہ و اخلاص کی طرف رہنمائی کی اور اپنے معاملہ شرک و کجروی سے ہمیں بچایا ۔ ایسی حمد جس کے ذریعے ہم اس کی مخلوقات میں سے حمد گزاروں میں زندگی بسر کریں اور اس کی خوشنودی و بخشش کی طرف بڑھنے والوں سے سبقت لے جائیں ۔ ایسی حمد جس کی بدولت ہمارے لۓ برزخ کی تاریکیاں چھٹ جائیں اور جو ہمارے لۓ قیامت کی راہوں کو آسان کر دے اور حشر کے مجمع عام میں ہماری قدرومنزلت کو بلند کر دے جس دن ہر ایک کو اس کے کۓ کا بدلہ دیا جاۓ گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ ہو گا ۔ جس دن کوئی دوست کسی دوست کےکچھ کام نہ آۓ گا اور نہ ان کی مدد کی جاۓ گی ۔ ایسی حمد جو ایک لکھی ہوئی کتاب میں ہے جس کی مقرب فرشتے نگہداشت کرتے ہیں ہماری طرف سے بہشت بریں کے بلند ترین درجات تک بلند ہو ، ایسی حمد جس سے ہماری آنکھوں میں ٹھنڈک آ‎ۓ جبکہ تمام آنکھیں حیرت و دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ اور ہمارے چہرے روشن و درخشان ہوں جبکہ تمام چہرے سیاہ ہوں گے ۔ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اللہ کی بھڑکاتی ہوئی اذیت دہ آگ سے آزادی پا کر اس کے جوار رحمت میں آ جائیں ۔ ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اس کے مقرب فرشتوں کے ساتھہ شانہ بشانہ بڑھتے ہو‎ۓ ٹکرائیں اور اس منزل جاوید و مقام عزت و رفعت میں جسے تغیر و زوال نہیں اس کے فرستادہ پیغمبروں کے ساتھ یکجا ہوں ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے خلقت و آفرینش کی تمام ہمارے لۓ منتخب کیں اور پاک وپاکیزہ رزق کا سلسلہ ہمارے لۓ جاری کیا اور ہمیں غلبہ اور تسلط دے کر تمام مخلوقات پر برتری عطا کی ۔ چنانچہ تمام کائنات اس کی قدرت سے ہمارے زیر فرمان اور اس کی قوت اور سربلندی کی بدولت ہماری اطاعت پر امادہ ہے ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے اپنے سواء طلب و حاجت کا ہر دروازہ ہمارے لۓ بند کر دیا تو ہم ( اس حاجت و احتیاج کے ہوتے ہو‌ۓ ) کیسے اس کی حمد سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں اور کب اس کا شکر ادا کر سکتے ہیں ۔ نہیں! کسی وقت بھی اس کا شکر ادا نہیں ہو سکتا ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے ہمارے (جسموں میں) پھیلنے والے اعصاب اور سمٹنے والے عضلات ترتیب دیۓ اور زندگی کی آسائشوں سے بہرہ مند کیا اور کار و کسب کے اعضاء ہمارے اندر ودیعت فرماۓ اور پاک و پاکیزہ روزی سے ہماری پرورش کی اور اپنے فضل وکرم کے ذریعہ ہمیں بےنیاز کر دیا اور اپنے لطف و احسان سے ہمیں (نعمتوں کا ) سرمایہ بخشا۔ پھر اس نے اپنے اوامر کی پیروی کا حکم دیا تاکہ فرمانبرداری میں ہم کو آزما‎ۓ اور نواہی کے ارتکاب سے منع کیا تاکہ ہمارے شکر کو جانچے مگر ہم نے اس کے حکم کی راہ سے انحراف کیا اور نواحی کے مرکب پر سوار ہو لۓ ۔ پھر بھی اس نے عذاب میں جلدی نہیں کی ، اور سزا دینے میں تعجیل سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے کرم و رحمت سے ہمارے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا اور حلم و رافت سے ہمارے باز آ جانے کا منتظر رہا ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے ہمیں توبہ کی راہ بتائی کہ جسے ہم نے صرف اس کے فضل و کرم کی بدولت حاصل کیا ہے ۔ تو اگر ہم اس کی بخششوں میں سے اس توبہ کے سواء اور کوئی نعمت شمار میں نہ لائیں تو یہی توبہ ہمارے حق میں اس کا عمدہ انعام ، بڑا احسان اور عظیم فضل ہے اس لۓ کہ ہم سے پہلے لوگوں کے لۓ توبہ کے بارے میں اس کا یہ رویّہ نہ تھا ۔ اس نے تو جس چیز کے برداشت کرنے کی ہمیں طاقت نہیں ہے وہ ہم سے ہٹا لی اور ہماری طاقت سے بڑھ کر ہم پر ذمہ داری عائد نہیں کی اور صرف سہل و آسان چیزوں کی ہمیں تکلیف دی ہے اور ہم میں سے کسی ایک کے لۓ حیل و حجت کی گنجائش نہیں رہنے دی ۔ لہذا وہی تباہ ہونے والا ہے جو اس کی منشا کے خلاف اپنی تباہی کا سامان کرے ، اور وہی خوش نصیب ہے جو اس کی طرف توجہ و رغبت کرے۔ اللہ کے لۓ حمد و ستائش ہے ہر وہ حمد جو اس کے مقرب فرشتے بزرگ ترین مخلوقات اور پسندیدہ حمد کرنے والے بجالاتے ہیں ۔ ایسی ستائش جو دوسری ستائشوں سے بڑھی چڑھی ہوئی ہو جس طرح ہمارا پروردگار تمام مخلوقات سے بڑھا ہوا ہے ۔ پھر اسی کے لۓ حمد و ثناہ ہے ۔ اس کی ہر ہر نعمت کے بدلے میں جو اس نے ہمیں اور تمام گزشتہ وباقی ماندہ بندوں کو بخشی ہے ان تمام چیزوں کے شمار کے برابر جن پر اس کا علم حاوی ہے اور ہر نعمت کے مقابلہ میں دوگنی چوگنی جو قیامت کے دن تک دائمی و ابدی ہو ۔ ایسی حمد جس کا کوئی آخری کنار اور جس کی گنتی کا کوئی شمار نہ ہو ۔ جس کی حد ونہایت دسترس سے باہر اور جس کی مدّت غیر مختتم ہو ۔ ایسی حمد جو اس کی اطاعت و بخشش کا وسیلہ ، اس کی رضامندی کا سبب ، اس کی مغفرت کا ذریعہ ، جنّت کا راستہ ، اس کے عذاب سے پناہ ،اس کے غضب سے امان ، اس کی اطاعت میں معیّن ، اس کی معصیت سے مانع اور اس کے حقوق و واجبات کی ادائیگی میں مددگار ہو ۔ ایسی حمد جس کے ذریعے اس کے خوش نصیب دوستوں میں شامل ہو کر خوش نصیب قرار پائیں اور شہیدوں کے زمرہ میں شمار ہوں جو اس کے دشمنوں کی تلواروں سے شہید ہو‎ۓ ۔ بے شک وہی مالک مختار اور قابل ستائش ہے ۔