زیارت ناحیہ مقدسہ

یہ زیارت اصل میں وه تحفۂ سلام ہے اور وه نذر عقیدت ہے جس کو حضرت صاحب الامر (علیہ السلام) نے اپنے جد مظلوم خامس آل عبا حضرت سید الشہداء کی بارگاه میں پیش کیا ہے اور بعنوان سلام اپنے جد مظلوم کا مرثیہ کہا ہے اور ان کے ہولناک مصائب و آلام کا تذکره کرکے نوحہ کیا ہے۔ اس زیارت کی جلالت قدر اور عظمت مقام کی ضمانت کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ کلمۃ اللہ الباقیہ کے کلمات ہیں ۔ غیبت صغری میں جن چار حضرات علماء کرام نے نیابت امام کے فرائض انجام دیئے ہیں اور امام (علیہ السلام) کے ارشادات عالیہ اور احکام جاریہ ان کے وسیلہ سے ملتِ اہل بیت تک پہنچے ہیں وہی حضرات اس زیارت عظمی کے لئے ہمارے اور ہمارے امام کے درمیان وسیلۂ محکم ہیں ۔ ہمارے اجلہ علمائے کرام نے اس زیارت کو معتبر قرار دے کر کتب زیارات میں تحریر فرمایا ہے۔ علامہ مجلسی (رح) نے اولاً اپنی کتاب مزار بحار میں پھر اس کے بعد اپنی کتاب تحفۃ الزائر میں اس زیارت کو ان زیارتوں کے سلسلہ میں تحریر فرمایا ہے جو ائمہ معصومین (علیہم السلام) سے منقول و ماثور ہیں اور تالیف علماء میں سے نہیں ہیں۔ علامہ مجلسی (رح) مذکور نے زیارت ناحیہ کو سید بن طاوس اور شیخ محمد بن المشہدی کے حوالہ سے نقل فرمایا ہے۔ شیخ الطائفہ ابو جعفر طوسی (رح) نے بهی براه راست ابن عیاش سے اسی زیارت ناحیہ کی روایت کی ہے۔ جناب شیخ مفید (رح) جو شیخ ابو جعفر طوسی (رح) و شیخ نجاشی (رح) کے استاد ہیں انہوں نے بهی اپنی کتاب المزار میں زیارت ناحیہ کو بیان فرمایا ہے۔ سید بن طاوس نے بهی اپنی کتاب اقبال میں زیارت ناحیہ کو پیش کیا ہے ۔ غرضیکہ علماء اعلام شیعہ نے اس زیارت کا موثق و معتبر ہونا تسلیم کیا ہے۔ اس زیارت کا پڑهنا ایسا ہی ہے گویا امام حسین (علیہ السلام) کا نوحہ، مرثیہ، سلام اور نذرانۂ عقیدت بزبان امام زمانہ (علیہ السلام) پڑهنا ہے جس کا ثواب بے حساب ہے۔ روز عاشور کے علاوه بهی عام ایام میں پڑهنے کا ثواب بے حد ہے۔ علامہ مجلسی بحار الانوار میں لکھتے ہیں شیخ مفید رعایت کرتے ہیں کہ جب چاہیں کہ عاشور کے دن حضرت امام حسین کی زیارت کریں تو آنحضرت کی قبر کے کنارے کھڑے ہوجائیں اور کہیں: خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے سلام آدم پر جو برگزیدہء خدا اور خلیفۂ خدا ہیں، سلام شیث پر جو ولی خدا اور پسندیدہ خدا ہیں، سلام ادریس پر جو اپنی دلیل کے ساتھ (جنت میں) مقیم ہیں، سلام نوح پر جن کی دعا قبول کی گئی، سلام ہود پر جن کی اللہ کی طرف سے مخصوص مدد کی گئی، سلام صالح پر جن کو اللہ نے اپنے کرم سے ذی شان قرار دیا، سلام ابراہیم پر جن کو اللہ نے اپنی خلت سے سر فراز کیا، سلام اسماعیل پر جن کو اللہ نے ذبح عظیم کی قرار داد کے ساتھ اپنی جنت سے فدیہ بهیجا، سلام اسحاق پر جن کی ذریت میں اللہ نے نبوت کا سلسلہ رکھا، سلام یعقوب پر جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دوبارہ بینا‏ئی دی، سلام یوسف پر جن کو خدا نے اپنا کرم عظیم فرما کر کنویں سے نجات دی، سلام موسی پر جن کے لئے خدا نے اپنی قدرت سے دریا کو شگافتہ کردیا، سلام ہارون پر جن کو خدا نے اپنی نبوت سے مخصوص فرمایا، سلام شعیب پر جن کو خدا نے ان کی امت پر غالب کیا، سلام داؤد پر جن کے ترک اولی کو الله نے معاف کر دیا، سلام سلیمان پر جن کے لئے خدا کی دی ہوئی عزت کی بدولت قومِ جن تابع ہوگئی، سلام ہو ایوب پر جن کو الله نے بیماری سے شفا دی، سلام یونس پر خدا نے ان کے اس وعده کو پورا کیا جس کی انہوں نے ضمانت کی تهی، سلام عزیر پر جن کو خدا نے مرنے کے بعد دوباره زنده کیا، سلام زکریا پر جو اپنی شدید آزمائش میں بهی صابر رہے، سلام یحیی پر جن کا مرتبہ الله نے ان کی شہادت سے اور بڑهادیا، سلام عیسی پر جو بزبانِ وحی الله کی روح اور الله کا کلمہ ہیں، سلام محمد مصطفی (ص) پر جو محبوب خدا اور پسندیده خدا ہیں، سلام امیر المومنین علی ابن ابی طالب پر جن کو پیغمبر کے بھا‏ئی ہونے کا مخصوص شرف دیا گیا، سلام فاطمہ زہرا دختر رسول پر، سلام ابو محمد حسن مجتبی پر جو اپنے باپ کے وصی وجانشین ہیں، سلام حسین پر جنہوں نے راهِ خدا میں انتہائی زخمی ہونے کے بعد جو جان جسم میں باقی ره گئی تهی وه بهی دے دی، اس پر سلام جس نے مخفی اور آشکار خدا کی عبادت کی ، اس پر سلام جس کی خاک میں اللہ نے اثر شفا قرار دیا، سلام اس پر کہ جس کی قبہ کے نیچے دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس پر سلام جس کی ذریت سے قیامت تک امام رہیں گے، آخری پیغمبر کے فرزند پر سلام، سردار اوصیاء علی (ع) کے فرزند پر سلام، فاطمۃ الزہرا (س) کے فرزند پر سلام، خدیجہ بزرگ مرتبہ کے فرزند پر سلام، سدرة المنتہی کے وارث پر سلام، جنت جیسی پناه گاه کے وارث پر سلام، زمزم وصفا کے وارث پر سلام، آلوده خاک وخون پر سلام، سلام اس پر جس کا خیمہ پهاڑ ڈالا گیا، چادرِ تطہیر والوں کی پانچویں فرد پر سلام، مسافروں میں سب سے زیاده بیکس مسافر پر سلام، شہیدوں میں سب سے زیاده پر درد شہید پر سلام، اس پر سلام جس کو مجہول النسب لوگوں نے قتل کیا، ساکنِ ارضِ کربلا پر سلام، اس پر سلام جس کو آسمان کے فرشتے روئے، اس پر سلام جس کی نسل سے ائمہ اطہار ہیں، سلام دین کے سردار پر، سلام ان (ائمہ) پر جو حق کی منزلیں ہیں، سلام ان ائمہ پر جو پیشوائے ملت ہیں، ان گریبانوں پر سلام جو خون میں بھرے تھے، ان ہونٹوں پر سلام جو پیاس سے سوکھے ہوئے تھے، سلام ان پر جو ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے، سلام ان پر جن کو قتل کے فوراً بعد لوٹ لیا گیا، سلام ہو بے گور وکفن نعشوں پر، [سلام ہو ان جسموں پر دهوپ کی شدت سے جن کے رنگ بدل گئے]، (ارض کربلا پر) بہنے والے خون پر سلام، جسموں سے جدا کردیئے جانے والے اعضاء پر سلام، نیزوں پر اٹھائے جانے والے سروں پر سلام، بے ردا ہوجانے والی مستورات پر سلام، حجت پروردگار عالم پر سلام، آپ پر سلام اور آپ کے پاکیزه آباء واجداد پر سلام، آپ پر سلام اور آپ کے شہید ہونے والے فرزندوں پر سلام، آپ پر سلام اور حمایت حق کرنے والی آپ کی ذریت پر سلام، آپ پر اور آپ کے پہلو میں رہنے والے فرشتوں پر سلام، سلام ظلم و ستم سے قتل کئے جانے والے پر اور ان کے بهائی (حسن (ع)) پر جن کو زہر دیا گیا، سلام جناب علی اکبر پر، [سلام] کم سن شیرخوار پر، سلام ان جسموں پر جن کو (بعد شہادت) لوٹا گیا، سلام نبی کی قریب ترین ذریت پر، سلام ان لاشوں پر جن کو بیابان میں پڑا چهوڑ دیا گیا، سلام ان مسافروں پر جو اپنے وطن سے دور تهے، سلام بے کفن دفن کئے جانے والوں پر، سلام ان سروں پر جن کو جسموں سے جدا کر دیا گیا، راهِ خدا میں اذیّت اٹھانے والے صابر پر سلام، عالم بیکسی میں ظلم کئے جانے والے پر سلام، خاکِ پاک پر رہنے والے پر سلام، قبۂ بلند رکهنے والے پر سلام، اس پر سلام جس کو خدائے بزرگ نے پاکیزه و پاک قرار دیا، اس پر سلام جس پر جبریل نے فخر کیا، اس پر سلام جس کو گہواره میں میکائیل نے لوریاں دیں، اس پر سلام جس کے بارے میں عہد وپیماں کو توڑ دیا گیا، اس پر سلام جس کی حرمت کو ضائع کیا گیا، اس پر سلام جس کا خون ظلم سے بہایا گیا، اس پر سلام جس کو زخموں سے بہنے والے خون میں نہلادیا گیا، اس پر سلام جس کو ہر طرف سے نیزے لگائے جاتے تهے، اس پر سلام جس پر ہر ظلم و ستم روا رکها گیا، [اس پر سلام جسے اتنی بڑی کائنات میں یکہ و تنہا چهوڑدیا گیا]، اس پر سلام جس کو گرد ونواح کے گاؤں والوں نے دفن کیا، اس پر سلام جس کی شہ رگ کو (بے دردی سے) کاٹا گیا، اس پر سلام جو یکہ وتنہا دشمنوں کی یلغار کو ہٹا رہا تھا، اس ریش اقدس پر سلام جو خون سے سرخ تهی، اس رخسار پر سلام جو خاک آلود تها، اس بدن پر سلام جو غبارآلود تها (اس لٹے اور نچے ہوئے بدن پر سلام)، ان دانتوں پر سلام جن پر ظلم کی چهڑی چل رہی تهی، اس [سر اقدس] پر سلام جو نیزه پر اٹهایا گیا، ان جسموں پر سلام جو بیابان میں برہنہ پڑے تھے جن کو ستمگارانِ امت بھیڑیوں کی طرح دوڑ دوڑ کر جھنجھوڑ رہے تھے اور کٹ کھنے درندے بن کر (پامالی اور لوٹ کھسوٹ کے لئے) منڈلا رہے تھے ۔ میرے مولا آپ پر سلام اور آپ کے قبہ کے گرد جمع رہنے والے فرشتوں پر سلام جو آپ کی تربت کو گهیرے رہتے ہیں اور آپ کے صحنِ اقدس کا طواف کرتے ہیں اور آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوتے ہیں ۔ آپ پر سلام، میں نے آپ کی جانب رخ کیا ہے اور آپ کی بارگاه سے کامیابی کا امیدوار ہوں، آپ پر سلام آپ کی حرمت کو پہچاننے والے کا، سلام آپ سے خالص محبت رکھنے والے کا سلام، سلام آپ کی محبت کے ذریعہ سے قربِ خدا حاصل کرنے والے کا، اس کا سلام جو آپ کے دشمنوں سے بیزار ہے، اس کا سلام جس کا دل آپ کے غم سے زخمی ہے، اور آپ کے ذکر کے وقت اس کی آنکهوں سے آنسو جاری رہتے ہیں جو آپ کے مصائب سے نہایت دردمند ملول اور بے حال ہے ۔ اس کا سلام جو میدانِ کربلا میں اگر آپ کے ساتھ ہوتا تو تلواروں کی باڑھ پر اپنی جان کو ڈال دیتا اور آمادہ موت ہوکر اپنے خون کا آخری قطرہ آپ پر نثار کردیتا، اور باغیوں کے مقابلہ میں آپ کے سامنے جہاد کرکے آپ کی نصرت کرتا اور اپنی روح، اپنا جسم، اپنا مال اور اپنی اولاد سب کچھ آپ پر فدا کردیتا، اس کی روح آپ کی روح پر نثار ہوتی اور اس کے اہل آپ کے اہل پر فدا ہوتے ۔ اب جبکہ زمانہ نے مجھے مؤخر کردیا اور اس وقت موجود نہ ہونے کی وجہ سے میرے مقدر نے مجھے آپ کی نصرت سے روک دیا، آپ سے لڑنے والوں سے نہ لڑسکا اور آپ کے دشمنوں کے لئے میدان میں آکر کھڑا نہ ہوسکا تو صبح وشام بیقراری سے آپ کے غم میں رویا کروں گا اور آنسو کے بدلہ آنکھوں سے خون بہاؤں گا، یہ آپ کا غم یہ آپ کے مصائب پررنج وملال اور آهِ پُردرد کبهی جانے والی نہیں، اسی سوزشِ غم اسی رنج وملال کو ساتھ لے کر دنیا سے اٹھ جاؤں گا ۔ مولا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز کو قائم کیا، بڑی زبردست زکوة دی، نیکیوں کا حکم دیا، برائیوں اور سرکشی سے روکا، آپ نے خدا کی اطاعت کی کبهی اس کی نافرمانی نہیں کی، آپ نے اپنا رابطہ خدا سے قائم رکها اور اس کو انتہائی خوش رکها، آپ ہمیشہ خدا کی نا فرمانی سے ڈرے، آپ کی نظر ہمیشہ اس کی طرف رہی، آپ نے ہمیشہ اس کی رضا کو پسند کیا (اس کی آواز پر لبیک کہی)، آپ نے سنتِ خدا اور رسول (ص) کو قائم کیا، اور فتنوں کی آگ کو بجهایا، دوسروں کو راهِ حق کی طرف بلایا، اور حق کے راستوں کو اجاگر کرکے دکھایا، اور خدا کی راہ میں جو جہاد کا حق تھا اسے پورا کردیا، آپ خدا کے مطیع رہے، اور اپنے جد محمد مصطفی (ص) کے پیرو رہے، اور اپنے باپ کے تابع فرمان رہے، اور اپنے بھائی حسن (ع) کی وصیت کو جلد پورا کیا، آپ ہیں ستونِ دین کو بلند کرنے والے، سرکشی کی بنیادوں کو کهودینے والے، اور سرکشوں کے سروں کو ضرب نیزه و شمشیر سے کچل دینے والے، امت پیغمبر کو نصیحت کرنے والے، اور موت کے بهنور تیرنے والے، اور اہل فسق وفجور کا مردانہ وار مقابلہ کرنے والے، خدا کی حجتوں کے ساتھ قائم رہنے والے، اسلام اور مسلمین کے لئے دل میں رحم رکهنے والے، حق کی نصرت کرنے والے، اور سخت آزمائش کے وقت صبر کرنے والے، دین کی حفاظت کرنے والے، اور دین پر حملہ کرنے والوں کا منہ پهیردینے والے، آپ ہدایت کی حفاظت اور نصرت کرتے رہے، اور عدل وانصاف کی نشر و اشاعت کرتے رہے، دین کی نصرت وحمایت کرتے رہے، اور دین کی حقارت کرنے والوں کی روک ٹوک اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہے، آپ طاقتور سے کمزور کا حق دلاتے تھے اور حکم میں طاقتور اور کمزور کو برابر رکهتے تھے۔ آپ یتیموں کی بہار تھے، مخلوق کے لئے پناہ گاہ تھے، اسلام کی عزت تھے، آپ کے پاس احکام الہی کا سرمایہ تھا، آپ حاجتمندوں کو گرانقدر عطیہ دینے کا عزم کئے ہوئے تھے، اپنے جد امجد اور پدرِ نامدار کے طریقوں پر چلنے والے، اور اپنے بهائی کی طرح امر خیر کی ہدایت فرمانے والے، اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے والے، پسندیده خو بو رکهنے والے (صاحب اوصاف حمیده)، آپ کی سخاوت اظہر من الشمس، آپ پردہ شب میں تہجد گزار، آپ کا ہر طریقہ مضبوط و درست، آپ کی ہر عادت بزرگانہ شان کی حامل، آپ کی ہر سبقت عظیم الشان، آپ کا نسب انتہائی بلند، آپ کے کمالات انتہائی اونچا‏ئی پر، آپ کا ہر مرتبہ بلندتر، آپ کے فضا‏ئل بہت ہی زیاده، آپ کے خصائل سب پسندیده، آپ کی بخششیں نہایت قیمتی، آپ صاحبِ علم، راهِ حق پر گامزن، خدا کی طرف مائل، سخی عزم کے طاقتور، صاحبِ علم، امامِ امت، گواهِ حقانیت، ملت کے لئے دردمند، خدا سے لو لگائے ہوئے، ہر صاحبِ دل کے محبوب، خدا کے غضب سے ڈرنے والے، آپ رسول (ص) کے فرزند ہیں، قرآن کے لئے سند ہیں، امت کے لئے دست و بازو ہیں، طاعت خدا میں تعب اٹهانے والے، عہد وپیمان کی حفاظت کرنے والے، بدکاروں کے راستوں سے الگ تهلگ، مصیبت زده کو عطا کرنے والے، طولانی رکوع وسجده کرنے والے، دنیا کو اس طرح چھوڑ دینے والے جیسے دنیا سے رخصت ہونے والے دنیا سے سیر ہوتا ہے، دنیا کو آپ نے ہمیشہ نفرت کی نگاه سے دیکها، آپ کی آرزوئیں دنیا سے ہٹی ہوئی تھیں، دنیا کی آرائش سے آپ کوسوں دور تھے، رونق دنیا سے آپ کی نگاہیں پهری ہوئی تهیں، اور دنیا جانتی ہے کہ آپ کا میلان خاطر بس آخرت کی طرف تها، یہاں تک کہ جب ظلم وجور اپنے ہاتھ بہت بڑھانے لگا، اور ظلم کے چہرہ پر جو ہلکا سا پرده تها وه بهی نہ رہا، گمراہی نے اپنے چیلوں کو ہر طرف سے بلا لیا، اس وقت آپ اپنے [جد امجد] کے حرم میں مقیم تھے، ظالموں سے دور تھے، گوشہ نشین تھے اور محرابِ عبادت میں محوِ عبادت تھے، دنیا کی لذتوں اور خواہشوں سے کناره کش تهے، اور اپنی طاقت کے مطابق اور امکان کی حد تک اپنے دل وزبان سے حرام سے بچنے کی ہدایت بهی کرتے رہے تهے، (آپ سے بیعت یزید کا مطالبہ ہوا) اور آپ کے حقیقت شناس علم نے طے کرلیا کہ بیعت سے انکار ہو اور بیعت نہ کرنے کی وجہ سے جو لوگ قتال کریں ان فاجروں سے جہاد کریں ۔ فوراً آپ اپنی اولاد اہلِ خاندان اپنی فرمانبردار جماعت کو لے کر چلے، آپ نے حق اور روشن دلائل کو واضح کر دیا، اور خلق خدا کو حکمت اور پسندیده موعظہ کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دی، اور حدود شریعت کے قائم کرنے کا، نیز معبود کی فرمانبرداری کا، محرمات سے بچنے اور سرکشی سے باز رہنے کا حکم دیا، لیکن ستمگاروں نے ظلم وعداوت سے آپ کا مقابلہ کیا، آپ نے پہلے تو ان کو غضب خدا سے ڈرایا اور حجت ہدایت کی مضبوطی کی، [پهر ان سے جہاد کیا]، آخرکار جب انہوں نے آپ کے بارے میں ہر عہد کو توڑدیا، ہر حکم خدا کو پسِ پشت ڈال دیا اور آپ کی بیعت سے بهی پهر گئے، اور اپنی شقاوت سے انہوں نے آپ کے خدا اور آپ کے جد امجد کو غضبناک کیا، اور آپ سے لڑنے کی پہل اپنی طرف سے کی، تو پهر آپ بهی ضرب نیزه وشمشیر کے لئے میدان میں آگئے، اور بدکاروں کے لشکروں کو پیس ڈالا، آپ جنگ کے گہرے غبار میں دھنسے ہوئے ذوالفقار سے حیدر کرار کی طرح قتال کر رہے تھے ۔ اعداء نے جب آپ کے دل کو مضبوط اور بالکل بے خوف و ہراس دیکها تو آپ کے لئے اپنے مکر کے جال بچهانے لگے، اور اپنی مخصوص سفیانی چالاکیوں اور شرارت کے ساتھ آپ کے ساتھ قتال کرنے لگے، ملعون عمر بن سعد نے اپنے لشکروں کو حکم دے دیا کہ پانی حسین (ع) تک نہ پہنچ سکے۔ سب لوگ تیزی کے ساتھ آپ سے قتال کرنے لگے اور پے در پے ملے جلے حملے ہونے لگے، آپ کو تیروں سے چهلنی کر دیا، سب نے ظلم و ستم کے ہاتھ آپ کی طرف بڑهادیئے، نہ انہوں نے آپ کے بارے میں اپنی کسی ذمہ داری کو دیکها نہ یہ کہ آپ کو اور آپ کے ساتهیوں کو قتل کرنے میں اور آپ کے سامان کو لوٹنے میں، وه کتنے زبردست گناه کے مرتکب ہوں گے! آپ غبار جنگ میں دھنسے ہوئے تھے اور ہر ایک اذیت اٹھا رہے تھے، آپ کا صبر دیکھ کر تو ملائکہ افلاک بهی تعجب کررہے تهے، ظالموں نے ہر طرف سے آپ کو گهیرلیا اور زخم پر زخم پہنچا کر آپ کو مضمحل کردیا، دم لینے کی مہلت نہ دی، آپ کا کوئی مددگار نہ رہا تها، بیکسی کے عالم میں انتہائی صبر وضبط کے ساتھ آپ اپنی مستورات اور بچوں کی طرف سے ہجوم اشقیاء کو ہٹا رہے تهے، یہان تک کہ انہوں نے آپ کو گهوڑے سے گرادیا، آپ زخموں سے چور ہوکر زمین پر گرے، لشکر کے گهوڑے اپنے سموں سے آپ کو کچل ربے تھے، اور سرکش ستمگر اپنی تلواریں لئے آپ پر چڑهے چلے آتے تهے، موت کا پسینہ آپ کی پیشانی پر آیا ہوا تها، اور آپ کے دست وپا ادهر ادهر سمٹتے اور پهیلتے تهے ۔ آپ چشم نیم وا سے اپنے کنبہ اور اپنے بچوں کو دیکھ رہے تهے، حالانکہ اس وقت آپ کی خود کی حالت تو ایسی تهی کہ آپ کو اپنے کنبہ کا اور بچوں کا دهیان نہ آسکتا تها، اس وقت آپ کا گهوڑا ہنہناتا اور روتا ہوا آپ کے خیام کی طرف چلا، جب اہلِ حرم نے آپ کے رہوار کو بے سوار دیکها اور زین اسپ کو نیچے ڈهلکا ہوا دیکها تو بے قرار ہوکر خیموں سے نکل پڑیں اور بال بکهرائے ہوئے منہ پر طمانچے مارتے ہوئے جبکہ پرده کا دهیان نہ تها نوحہ وبکا کرتے ہوئے اپنے بزرگوں کو وارثوں کو پکارتے ہوئے جبکہ اپنی اس مخصوص عزت و شوکت کے بعد حقارت کی نظر سے دیکهے جا رہے تهے، سب کے سب [آپ] کی قتل گاہ کی طرف تیزی سے جا رہے تھے۔ آه شمر اس وقت آپ کے سینہ بیٹها ہوا تها، اور اپنا خنجر آپ کی گردن پر پهیررہا تها، ریشِ مبارک ظالم اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے اپنی ہندی تلوار سے آپ کو ذبح کر رہا تها، آپ کے دست وپا بے حرکت ہوگئے (آپ کے ہوش و حواس ساکن ہوگئے) اور سانس رک گیا،نیزه پر سر اقدس کو اٹهایا گیا، اور اہلِ حرم کو غلاموں کی طرح قید کرلیا گیا، اور آہنی زنجیروں میں جکڑ کر اونٹوں پر بٹهالیا گیا، دن کے دوپہر کی گرمیاں ان کے چہروں کو جهلسا رہی تهی، اور وه غریب بیابانوں اور جنگلوں میں پهرائے جا رہے تهے، ہاتھ ان کے گردنوں سے بندهے ہوئے تهے اور بازاروں میں ان کو پهرایا جا رہا تها ۔ وائے ہو ان نافرمانوں فاسقوں پر جنہوں نے آپ کو قتل کرکے اسلام کو تباه کردیا، نمازوں کو روزوں کو معطل کردیا، شریعت کے چلن کو اور احکام کو توڑدیا، ایمان کی عمارت کو ڈهادیا اور قرآنی آیات میں تحریف کی، اور بغاوت وسرکشی میں دهنستے چلے گئے ۔ آپ کے قتل سے رسول الله (ص) مظلوم قرار پاگئے، مظلوم بهی ایسے کہ اپنے بچہ کے خون کا بدلہ نہ لے سکے، آپ کے قتل سے کتابِ خدا پر لاوارثی چهاگئی ۔ آپ کے ستائے جانے سے اصل میں حق ستایا گیا ۔ آپ کے نہ ہونے سے اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ ان آوازوں میں کوئی روح نہ رہی، حرام و حلال کا امتیاز، قرآن اور قرآن کے معانی کا تعین سب ضائع ہوگیا، آپ کے بعد شریعت میں کهلی ہوئی تبدیلیاں، فاسد عقیدے سے حدود شریعت کا تعطل، نفسانی خواہشوں کا زور، گمراہیاں فتنے اور غلط چیزوں کا ظہور ہوا ۔ غرض کہ آپ کی سنانی سنانے والا آپ کے جد امجد کی قبر کے پاس کهڑا ہوا اور آپ کی سنانی برستے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ رسول الله (ص) کو یہ کہتے ہوئے سنائی کہ: "یا رسول الله! آپ کا فرزند آپ کا بچہ قتل کردیا گیا، اور آپ کے گهروالوں اور جانثاروں کو ماردیا گیا، آپ کے بعد آپ کی ذرّیت کو قید کیا گیا، اور آپ کی ذریت و اہل بیت کو وه دکھ دیئے گئے جن دکهوں سے ان کو بچانا امت پر فرض تها"۔ روح اسلام کو انتہائی قلق ہوا اور آنحضرت کا قلب نازک گریاں ہوا، ملائکہ اور انبیاء نے ان کو آپ کا پرسہ دیا، آپ کے قتل ہونے سے آپ کی ماں فاطمہ زہرا (س) بے تاب ہوگئیں، ملائکہ مقربین کے ایک کے بعد ایک لشکر اترنے لگے جو آپ کے باپ امیرالمومنین (ع) کو پرسہ دے رہے تهے، اور اعلی علیین میں آپ پر نوحہ وماتم کررہے تهے، آپ کے غم میں حورانِ جنت اپنا منہ پیٹ رہی تهیں، آسمان اور آسمان کے باشندے آپ پر روئے، اور جنت کے خزینہ دار روئے، پہاڑ قطار در قطار روئے، دریا اور دریا کی مچهلیاں، [مکہ اور مکہ کی عمارتیں]، جنت اور غلمان، کعبہ اور مقامِ ابراہیم، مشعر حرام اور حل و حرم سب ہی آپ کے غم میں گریاں ہوئے ۔ خداوند اس بلند مرتبہ مقام کی حرمت کا واسطہ محمد و آل محمد پر درود وسلام بهیج، اور مجھ کو ان کے گروه میں محشور فرما، اور ان کی سفارش سے مجھے داخل جنت فرما ۔ اے کم سے کم وقت میں ہر ایک کا حساب کرنے والے، اے ہر بزرگ سے کہیں زیاده بزرگ تر، اے عالم حاکموں سے زیاده زور حکومت رکهنے والے، واسطہ حضرت محمد مصطفی (ص) کا جو تیرے آخری پیغمبر اور تمام عالم کی طرف تیرے رسول ہیں، اور ان کے بهائی کا واسطہ جو کشاده پیشانی اور معدنِ علم وحکمت اور ہر علم میں راسخ ہیں یعنی امیر المومنین علی مرتضی (ع)، اور فاطمہ زہرا (س) کا واسطہ جو زنانِ عالم کی سردار ہیں، حسن مجتبی (ع) کا واسطہ جو پاک وپاکیزه اور پرہیزگاروں کی پناه گاه ہیں، اور حضرت ابوعبدالله الحسین (ع) کا واسطہ جو تمام شہدا میں زیاده بزرگ مرتبہ ہیں، اور ان کی قتل ہونے والی [اولاد] کا واسطہ، اور ان کی مظلوم ذریت کا واسطہ، اور علی بن حسین زین العابدین (ع) کا واسطہ، اور محمد بن علی (ع) کا واسطہ جو عبادت گذاروں کے قبلہ ہیں، اور جعغر بن محمد (ع) کا واسطہ جو مجسمۂ صداقت ہیں، اور موسی بن جعفر (ع) کا واسطہ جو دلائل حق کو ظاہر کرنے والے ہیں، اور علی بن موسی (ع) کا واسطہ جو دین کے مددگار ہیں، اور محمد بن علی (ع) کا واسطہ جو اہل حق کے پیشوا ہیں، اور علی بن محمد (ع) کا واسطہ جو زاہدوں سے کہیں زیاده زاہد ہیں، اور حسن بن علی (ع) کا واسطہ جو ائمہ اطہار کے وارث ہیں، اور اس فرد کا واسطہ جو تمام خلق پر حجت ہیں، محمد و آل محمد پر درود بهیج جو صادقین میں بہترین نیکیوں کے حامل جن کا لقب آل طہ و آل یسین ہے، اور مجھے قیامت میں امن پانے والوں میں سے، صاحبان اطمینان میں سے، کامیاب ہونے والوں میں سے، خوش وخرم اور بشارت جنت پانے والوں میں قرار دے ۔ خداوندا مجھے اپنے فرمانبرداروں میں سے قرار دے (میرا نام مسلمانوں میں لکھ لے) اور صالحین سے وابستہ رکھ، میرے بعد نیکی اور بهلائی سے میرا ذکر ہو، جو بغاوت وسرکشی کرنے والے ہیں ان کے مقابلہ میں مجھے فتح دے، مجھے حاسدوں کے شر سے بچا، اور بری تدبیر کرنے والوں کی تدبیر کا رخ میری طرف سے پهیردے، ظالموں کے ہاتھوں کو مجھ پر ظلم کرنے سے روک دے، اور مجھے میرے با برکت پیشواؤں کو (محمد و آل محمد) اعلی علیین میں ایک جگہ مجتمع کردے، اے سب سے زیاده رحم کرنے والے مجھے تیری رحمت سے آخرت میں انبیاء، صدیقین، شہدا اور صالحین کی رفاقت نصیب ہو کیونکہ ان حضرات کو تو نے اپنی نعمتوں سے مالامال کیا ہے ۔ قسم دیتا ہوں خداوندا میں تجھ کو تیرے نبی معصوم (ص) کی، اور تیرے حتمی احکام کی، اور گناہوں سے بچنے کے لئے تیرے مقرره ارشادات کی، اور اس قبر مطہر کی جس کی زیارت کے لئے ہر طرف سے جن وانس وملک پہنچتے ہیں جس کے پہلو میں امام معصوم شہید ظلم وستم آرام فرما رہے ہیں، کہ میرے رنج وغم کو دور کردے، اور میرے مقدر کی برائی کو ہٹادے، اور مجھے جہنم کی آتشِ سوزاں سے پناہ دے ۔ اے اللہ! میرے چاروں طرف اپنی نعمتوں کا انبار لگادے اور مجھے اتنا دے کہ میں خوش و خرم رہوں (مجھے اپنی تقسیم کی ہوئی روزی پر راضی رکھ)، مجھے اپنے جود و کرم میں چهپا، اور اپنی سزا اور عتاب سے دور رکھ ۔ خداوندا مجھے ہر لغزش سے بچا، میرے قول و عمل کو درست کر، مجھے عمر دراز دے، اور امراض و اسقام سے بچا، اور مجھے میرے پیشواؤں کے وسیلہ سے اور اپنے فضل سے میری بہترین تمناؤں تک پہنچا ۔ خداوندا رحمت خاص نازل فرما محمد (ص) و آل محمد (ع) پر، اور میری توبہ کو قبول فرما، اور مجھے روتا دیکھ کر رحم فرما، میرے گناه بخش دے، میرے رنج و ملال کو دور کر، میری خطا کو بخش دے، میری اولاد کو نیک اور صالح قرار دے ۔ خداوند اس عظیم المرتبہ شہادت گاه اور اس بزرگ مرتبہ مقام پر (میری حاضری کا یہ نتیجہ) کہ میرے گناہ تو بخش چکا ہو، میرے ہر عیب کو تو چهپا چکا ہو، میرے ہر غم کو تو دور کرچکا ہو، میرے رزق میں تو کشائش کرچکا ہو، میرے گهر کے آباد رہنے کا تو حکم نافذ کرچکا ہو، میرے کاموں کے ہر بگاڑ کو تو درست کرچکا ہو، میری ہر آرزوئے دل کو تو پورا کرچکا ہو، میری ہر دعا کو تو قبول کرچکا ہو، میری ہر تنگی کو تو زائل کرچکا ہو، میرے ہر انتشار کو تو اطمینان سے بدل چکا ہو، میرے ہر کام کو تو تکمیل تک پہنچا چکا ہو، میرے ہر مال کو تو زیادہ سے زیادہ کرچکا ہو، اور مجھے ہر خلقِ حسن تو ادا کرچکا ہو، اور میرے ہر صرف کے بعد اس کا بدل دے کر اس کمی کو پورا کرچکا ہو، اور میرے ہر حاسد کو تو تباه کر چکا ہو، اور میرے ہر دشمن کو تو ہلاک کرچکا ہو، اور مجھے ہر شر سے تو بچا چکا ہو، اور مجھے ہر بیماری سے تو شفا عطا کرچکا ہو، اور میرے ہر ایک اپنے کو جو دور ہو تو اس کو قریب کرچکا ہو، اور میری ہر پریشانی کو تو اطمینان سے بدل چکا ہو، اور میرا ہر سوال تو مجھ کو عطا کرچکا ہو ۔ خداوندا میں تجھ سے اس دنیا کی بہتری اور اس جہانِ باقی کے ثواب کا سوال کرتا ہوں ۔ خداوندا مجھے وجہ حلال سے اتنا دے کہ میں حرام سے بے نیاز ہوجاؤں، اور اپنا فضل اس درجہ میرے شاملِ حال رکھ کہ مجھے کسی کی ضرورت ہی نہ ہو ۔ بار الہا میں تجھ سے اس علم کا سوال کرتا ہوں جو نفع بخش ہو، اور اس دل کا جس میں تیرا خوف ہو، اور اس یقین کا جو ہر شک کو دور کردے، [پاکیزه اور مخلصانہ عمل، مثالی صبر]، اور اس اجر کا جو فراوان ہو ۔ خداوندا مجھے توفیق دے کہ تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں، اور اپنا احسان وکرم مجھ پر زیاده سے زیاده فرما، اور ایسا کر کہ سب لوگ میری بات کو مانیں، اور میرا ہر عمل تیری بارگاه میں قبولیت کی بلندی حاصل کرے، اور نیکیوں میں لوگ میرے نقشِ قدم پر چلیں (یعنی نیکوں کے لئے میں ایک نمونہ بن جاؤں)، خداوندا میرے دشمن کو بر باد کردے ۔ بار الہا رحمت خاص نازل فرما محمد (ص) و آل محمد (ع) پر جو تیری تمام مخلوق میں بہتر سے بہتر ہیں، سلسلۂ رحمت تیرا ان حضرات پر شب وروز صبح وشام جاری رہے، اور شریر لوگوں کے مقابلہ میں تو میری حمایت کر، اور مجھے گناہوں سے اور گناہوں کے بار سے پاک کردے، اور مجھ کو جہنم سے پناه دے، اور راحت وآرام کے مقام (جنت) میں آباد کردے، اور میرے تمام دینی بهائی بہنوں مومنین ومومنات کو اے سب سے زیاده رحم فرمانے والے اپنے رحم وکرم سے بخش دے ۔ اس وقت قبلہ کی طرف منہ کریں اور دو رکعت نماز پڑھیں پہلی رکعت میں سورہ انبیاء اور دوسری رکعت میں سورہ حشر کو پڑھے ۔